The Daily Mail Urdu

Saturday, July 16, 2016

تاریخ کے کچھ دلچسپ واقعات


جمال الدین ابن واصل کچھ عینی شاہدین سے ایک دلچسپ روایت نقل کرتے ہیں کہ کہ فرانس کے بادشاہ لوئیس نہم کے مصر پر حملہ کے دوران جو کہ ساتویں صلیبی جنگ (1249 م 647 ھ )کے نام سے مشہور ہے۔

اہل منصورۃ میں سے ایک شخص نے ایک تربوز میں سوراخ کیا اور اس میں اپنا سر داخل کر کے پانی میں تیرتا رہا یہاں تک کہ اس کنارے تک پہنچا جہاں فرنگی لشکر ٹھہرا ہوا تھا ، تاکہ کنارے پر کھڑے لوگوں کو دھوکہ دے سکے کہ ایک خوش رنگ تربوز ان کی جانب رواں ہے، اور جونہی ایک لالچی سپاہی اس تربوز کو کھانے اور اس کی مٹھاس سے لطف اندوز ہونے کیلئے پانی کے درمیان پہنچا ، تو پانی میں چھپے اس دلیر جانباز نے اسے اچک کر گرفتار کر لیا اور اور تیرتا ہوا دشمن کے تیروں کی زد سے دور نکل آیا جہاں اسے قید کی حالت میں المنصورۃ معسکر لے آیا جہاں مسلمانوں کا لشکر خیمہ زن تھا۔

                        اصلی گولہ باری


ہسپانویوں نے الجزائر کے ساحلی علاقوں پر قبضہ کر رکھا تھا۔ ہسپانوی توپ خانے کا سالار جب کبھی اذان کی آواز سنتا تو اذان کی جگہ پر توپوں سے گولہ باری کرتا ، اس قلعہ کی فتح کے توپخانے کے اس سالار کو لایا گیا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ اس نے بہت سی مسجدوں اور مؤذنوں کو شہید کیا ہے جب اسے خیرالدین باربروسہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انھوں نے کہا : تم بڑے ماہر توپچی ہو ایک گولے سے اذان کی جگہ کو نشانہ بناتے تھے!" اب دیکھنا حقیقی گولہ باری کس طرح ہوتی ہے !" پھر اسے توپ کے دہانے پر رکھنے کا حکم دیا اور سمندر میں داغ دیا گیا..!

سلطان سلیم الاول کی زندگی کایک دلچسپ واقعہ


عثمانی سلطان سلیم الاول ظاہری زیب وزینت کو زیادہ خاطر میں نہ لاتا اور مملکت کے وزراء اور رؤساء بھی اس کی پیروی کرتے یہاں تک کہ سلطان کا دیوان زیب وزینت اور خوبصورت لباس سے خالی ہوتا چلا گیا اور اس کی جگہ ان کا لباس عام اور ردی قسم کا ہوتا جس کی انھیں سلطان کے لباس کی تقلید میں پہننا پڑتا تھا۔

صدر اعظم نے دیوان میں یورپی مملکت کے سفیر کی آمد سے فائدہ اٹھایا اور سلطان کی خدمت میں عرض کی : 

میرے آقا سلطان ہمارا دشمن ناقص العقل ہے، اس لئے وہ ہر چیز کو سطحیت سے دیکھتا اور ظاہری زیب وزینت کو ضرورت سے زائد اہمیت دیتا ہے اور سلطان معظم اگر مناسب سمجھیں تو…

سلطان بات کاٹ کر بولا:"ٹھیک ہے ایسا ہی کرتے ہیں ، تم بھی اپنے لئے زرق برق نئے لباس زیب تن کرنے کیلئے سوچو "

وزراء اس سلطانی حکم کو پا کر بے حد خوش ہوئے اور اپنے پاس موجود اس موقع کی مناسبت سے قیمتی ترین لباس تلاش کرنے لگے جو سلطان کی قیمتی وخوبصورت قبا کے قریب تر ہوں ۔

سلطان نے سفیر کی آمد سے قبل تخت کے پاس بے نیام تلوار رکھوانے کا حکم دیا ، اس دن وزراء اور معززین مملکت شاہی دربار میں سلطان کے منتظر تھے اور انھیں توقع تھی کہ سلطان عام معمول سے ہٹ کر قیمتی لباس زیب تن کر کے آئیں گے۔

سلطان وہی پرانا لباس زیب تن کئے دربار میں داخل ہوئے وزرء بھونچکے رہ گئے اور اپنے دل میں شرمندگی محسوس کرنے لگے ، کہ ان کے لباس ان کے سلطان کے لباس سے زیادہ خوبصورت اور بیش قیمت تھے ، شرمندگی سے سرجھکا کر بیٹھ گئے اور اس کی وجہ جاننے کا انتظار کرنے لگے۔

سفیر دربار میں داخل ہوا اور سلطان کے سامنے جھک کر لرزتا کانپتا کھڑا ہو گیا ، تھوڑی سی بات چیت کے بعد سفیر تیزی سے باہر نکل گیا، تب سلطان نے اپنے وزراء میں سے ایک سے کہا کہ وہ جا کر سفیر سے سلطان کے لباس کے بارے میں سوال کرے ، سفیر کا جواب انتہائی حیران کن تھا …

"میں نے سلطان معظم کو نہیں دیکھا تخت کی پائنتی کے ساتھ کھڑی بے نیام تلوار نے میری نظر اچک لی اور میں اس کے علاوہ اور کسی جانب دیکھ ہی نہ پایا" 

سلطان کے سامنے جب یہ بات دہرائی گئی تو سلطان نے تخت کے ستھ پڑی بے نیام تلوار کی جانب اشارہ کر کے کہا :

"جب تک ہماری تلوار کی دھار تیز ہے دشمن کی آنکھیں ہمارا لباس نہیں دیکھیں گی اور نہ ہی اس جانب متوجہ ہوں گی ، اللہ ہمیں وہ دن نہ دکھائے جب ہماری تلواریں کند ہوچکی ہوں اور ہم لباس اور ظاہری زیب وزینت میں مشغول ہوں…"

Friday, July 15, 2016

قندیل بلوچ کو قتل کردیا گیا




ملتان (اُردو پ تازہ ترین اخبار۔16جولائی 2016ء): پاکستان کی متنازعہ اداکارہ و ماڈل قندیل بلوچ کو قتل کیے جانے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں
 قندیل بلوچ کو اس کے بھائی نے گلا گھونٹ کر قتل کردیا۔
سی سی پی او ملتان ۔

ایہہ کی ہو گیا جی۔۔۔ کمال نہیں ہو گیا۔۔۔۔ تین گھنٹے کے اندر بغاوت کی کہانی اختتام کو پہنچی۔۔۔۔ اس کو کہتے ہیں عوامی طاقت

ایہہ کی ہو گیا جی۔۔۔ کمال نہیں ہو گیا۔۔۔۔ تین گھنٹے کے اندر بغاوت کی کہانی اختتام کو پہنچی۔۔۔۔
اس کو کہتے ہیں عوامی طاقت
ہیں جی
اردغان نے تو ایک کال دی اور لاکھوں لوگ گھروں سے نکل آئے۔۔۔۔ ایسی کال بھٹؤ سے لے کر نواز شریف تک، پاکستانی منتخب وزراء اعظم کیوں نہ دے سکے۔۔۔ اور اگر وہ کال دیتے تو کیا عوام سڑکوں پر نکلتے، ٹینکوں کا راستہ روکتے۔۔۔۔۔۔۔ یا آئندہ ایسی کسی کال پر کان دھریں گے؟؟؟؟؟؟؟
ہے ناں سوال ملین ڈالر کا!!!!!!!!
لیکن میرے ذہن میں اس سوال سے ہٹ کر بہت کچھ چل رہا ہے۔۔۔ 
اپنی عادت سے مجبور سونے سے قبل ٹوئیٹس دیکھ رہا تھا کہ اچانک ترکی میں فوجی بغاوت کی کوشش کی خبر آئی۔۔۔۔۔۔۔
ٹی آر ٹی ہیڈکوارٹر پر قبضہ اور اس کے بعد مارشل لاء کا اعلان
اور اس کے ساتھ ہی میڈیا اور لبرلز کے کمالات سامنے آنا شروع ہو گئے۔۔۔۔
بی بی سی، سی این این ، فوکس، اے بی سی جیسے ادارے ایسے انداز میں کوریج کر رہے تھے جیسے اردغان کا دھڑن تختہ ہو چکا، اور فوج کو تو اردغان کی قابل بیان اور ناقابل بیاں برائیوں، گناہوں اور جرائم و مظالم کی وجہ سے اقتدار سنبھالنا ہی تھا۔۔۔۔۔۔۔
سارا ویسٹرین میڈیا ایسے منظر کشی کر رہا تھا جیسے پہلے سے فوجی بغاوت کو خوش آمدید کہنے کے لئے تیار بیٹھا تھا۔۔۔۔
اور کیا کہنے ایدھی کی قبر میں رپورٹر کو لٹا کر صحافت کی معراج قائم کرنے والوں کے۔۔۔ انہوں نے ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم کو فوری سابق وزیراعظم قرار دے دیا۔۔۔۔۔ 
یہ سوچے بنا کہ ابھی بن علی یلدرم سمیت کسی بھی ترک رہنما یا آزاد میڈیا نے تختہ الٹنے کی تصدیق نہیں کی۔۔۔۔۔ اور نہ ہی کسی ایک یا دو مقامات پر قبضہ  کرنے سے مستحکم حکومتیں ختم ہوا کرتی ہیں۔۔۔۔
کچھ مفکرین کرام ترک صدر کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے لگے کہ وہ کہاں غائب اور چپ ہیں۔۔۔۔ میں نے چیک کیا تو اردغان ٹوئٹر پر سرگرم تھے۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ فیس ٹائم پر بھی نظر آ گئے ۔۔۔۔ اور ترک عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی کال دی۔۔۔۔۔
اور لوگ تو بس اپنے لیڈر کی ایک کال کے منتظر تھے، مساجد سے بھی اعلانات شروع ہو گئے،  سڑکوں پر گاڑیوں اور لوگوں کا اژدھام لگ گیا۔۔۔۔ کوئی ٹینک کا راستہ روک رہا ہے، کوئی ٹینک پر قبضہ کر رہا ہے تو کسی کا رخ ایئرپورٹ کی طرف ہے تاکہ وہاں سے فوجیوں کو بھگا سکے۔۔۔۔۔
ایک تو یہ منظر تھا،،،،، اب ذرا دوسری طرف بھی نظر دوڑاتے ہیں۔۔۔۔
ویسٹرین میڈیا یہ بتا رہا تھا کہ اردغان نے جرمنی میں پناہ کی درخواست کی ہے جو رد کر دی گئی ہے، اب ان کا طیارہ لندن کی طرف بڑھ رہا ہے، نہیں نہیں، وہ ایران جا رہا ہے وہاں پناہ لیں گے۔۔۔۔ اور تو اور۔۔۔۔۔ طیارے کا روٹ اور میپ بھی دکھایا جانے لگا۔۔۔۔۔
اور جو لوگ باغی فوجیوں کے خلاف سڑکوں پرنکلے، ان کی لائیو فیڈ میں خود دیکھ رہا تھا، اللہ اکبر کے نعرے سن رہا تھا، لیکن ویسٹرن میڈیا کافی دیر تک یہی بتانے میں لگا رہا کہ یہ لوگ بغاوت کے حق میں نکلے ہیں اور خوشی سے نعرے لگا رہے ہیں۔۔۔۔
اللہ بخشے ہمارے کچھ جید صحافیوں اور لبرلز کو،،،، اردغان کے اسلام پسند رجحانات کے بغض میں، سب وہی رخ دکھانے لگے جو ترک عوام اور جموریت پسندوں کے خلاف تھا۔۔۔۔
ایک منتخب جمہوری حکومت کے خلاف بغاوت کو انقلاب کا نام دیا جانے لگا، لوگوں کے احتجاج کو بغاوت کے حق میں خوشی کا اظہار بنا دیا گیا۔۔۔۔۔
تقسیم سکوائر سے لے کر فاسفورس پل تک،،،،،، ترک عوام لڑ رہے تھے، اور ہمارے نام نہاد صائب الرائے، صاحب نظر الٹی گنگا بہا رہے تھے ۔۔۔ شاید یہ سوچ کر کہ کسی بھی طرح اردغان کا اسلام پسند چہرہ منظر سے ہٹ جائے۔۔۔۔۔
پاکستان میں فوج کو گالی، ترک باغی فوجیوں کے حامی۔۔۔۔۔۔۔۔ واہ رے لبرلز۔۔۔ کتنے چہرے ہیں تم لوگوں کے۔۔۔۔۔
ترکی کو مصر سے ملایا  جانے لگا، اردغان کا مورسی سے تقابلی جائزہ شروع ہو گیا۔۔۔ اردغان کے جرائم کی طویل فہرست میں نیا جرم شامل کر لیا گیا کہ اس نے فوج کے خلاف عوام کو بغاوت پر اکسانے کے لئے مذہب کا سہارا لیا یعنی مساجد سے اعلانات کرائے۔۔۔

ترکی مصر نہیں نہ اردغان مورسی ہیں۔۔۔ اخوان کا ایک سال کا اقتدار جسٹس پارٹی کے دس سالہ اقتدار سے کوئی مماثلت نہیں رکھتا۔۔۔۔
اور پھر ترکی میں اگر بغاوت کچھ دن کے لئے بھی کامیاب ہو جائے تو ایسی تباہی پھیلے گی کہ شام جیسی بربادی دیکھنے کو ملے گی۔۔۔۔۔
مصر کی طرح چند ہزار مسلمانوں کو شہید کر کے مصنوعی امن قائم کرنے کا اعادہ ترکی میں نہیں ہو سکتا۔۔۔۔
حرف آخر۔۔۔۔۔۔
اوریگون سے تعلق رکھنے والی امریکی صحافی سبل ایڈمنڈز نے چھ ماہ قبل انکشاف کر دیا تھا کہ سی آئی اے اور ناٹو کی طرف سے اردغان کے خلاف بغاوت کرانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔
آخر امریکہ صاحب بہادر فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کیوں نہیں کرتا۔۔۔ ترکی کے مطالبے کے باوجود اس کو کیوں پینسلوینیا میں پناہ اور تحفظ فراہم کر رکھا ہے۔۔۔۔۔ تحریر: کرم الٰہی گوندل

الحمد الله ترکی میں دشمنوں کی چال ناکام


انقرہ (ڈیلی میل اُردو اخبارتازہ ترین۔15جولائی۔2016ء) ترک صدر طیب اردگان کی اپیل کے بعد ترکی کی عوام سڑکوں‌پر نکل آئی ہے ملک کے مختلف شہروں مین عوام 
چوراہوں پر جمع ہونا شروع ہو گئی ہے
مساجد سے عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم ہاؤس کی جانب بڑھنے والے ٹینکوں کو عوام نے روک لیا۔استنبول کے تقسیم اسکوائر پر عوام بڑی تعداد میں جمع ہونا شروع ہو گئی ہے۔

ترکی میں مارشل لاء لگانے کے ویڈیوز سب سے ہم نے آپ تک پہنچائے



ترکی میں مارشل لاء لگانے کے ویڈیوز سب سے ہم نے آپ تک پہنچائے