The Daily Mail Urdu

Monday, July 18, 2016

بغاوت کے دوران ترک صدر کا انٹرویو کرنے والی خاتون صحافی کو فون کے بدلے تین کروڑ روپے کی پیش کش 18 جولائی


ریاض(نیوز ڈیسک)ترکی میں بغاوت کی خبریں دنیا بھرمیں ایسے پھیلیں جیسے جنگل میں آگ پھیلے۔ایسے وقت میں جب ترکی کا مستقبل داﺅ پر لگا تھا اور دنیا بھر کی نظریں ترک صدر کو ڈھونڈ رہی تھیں ایسے میںسی این این کے ترک ٹی وی کی خاتون صحافی کا موبائل فون طیب اردگان کے قوم سے رابطے کا باعث بنا۔خاتون صحافی تھوڑی ہی دیر میں دنیا بھر میں جانی پہچانی خاتون بن گئیں جسے کئی لوگوں نے سراہا۔خاتون صحافی کے اس فون میں ابو رکان نامی ایک سعودی شہری کو ایسی دلچسپی پیدا ہو گئی کہ اس نے اس فون کے حصول کیلئے بڑا اعلان کردیا۔
روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں
عرب نیوز کے مطابق ابورکان نے اس فون کو خریدنے کی خواہش کا اظہا رکرتے ہوئے بغاوت کے دوران ترک صدر کا انٹرویو کرنے والی خاتون صحافی کو تین کروڑ روپے کی پیشکش کی۔انہوں نے اس فون کو ’فون آف فریڈم ‘قرار دیا۔ابورکان نے یہ پیشکش اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر کی ۔اگرچہ کئی لوگوں نے اس ٹویٹ پر مذاق اڑایا لیکن بیشتر افراد نے اس فون کو ایک بہت بڑا انٹرویو قرار دیدیا جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
خیال رہے کہ ترکی میں بغاوت کے دوران ترک صدر نے سی این این ترک کی ایک صحافی سے رابطہ کر کے اپنے حامیوں کو بغاوت کچلنے کیلئے گھروں سے نکلنے کا مطالبہ کیا تھا

صدرجنرل محمد ضیاء الحق کا حادثہ


17 اگست 1988ء کی شام یہ خبر سن کر پوری قوم حیران، ششدر اور دم بخود رہ گئی کہ صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق اپنے رفقاء کے ساتھ ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔
صدرجنرل محمدضیاء الحق ایک نئے امریکی ٹینک کا تجربہ اور آزمائش دیکھنے کے لئے اسی صبح بہاولپور پہنچے تھے۔ پاکستان میں امریکا کے سفیر آرنلڈ رافیل اور ایک امریکی بریگیڈیئر جنرل واسم بھی ان کے ہمراہ تھے۔ امریکی ٹینک کی مشقیں اور فوجی یونٹوں کا معائنہ کرنے کے بعد جنرل ضیاء الحق شام 3 بجکر 48 منٹ پر پاکستان ائیر فورس کے ایک C-130 طیارے میں جسے صدر مملکت کے سفر کی وجہ سے ’’پاک ون‘‘ کا نام دیا گیا تھا واپس اسلام آباد روانہ ہوئے۔ اس طیارے میں جنرل ضیاء الحق کے ہمراہ جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل اختر عبدالرحمن، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل میاں محمد افضال اور متعدد دوسرے فوجی افسران بھی سفر کررہے تھے۔
ابھی اس طیارے نے ٹیک آف کیا ہی تھا کہ پرواز کے فقط تین منٹ بعد 4 بجکر 51 منٹ پر طیارے کا رابطہ کنٹرول ٹاور سے منقطع ہوگیا اور یہ طیارے ہوا میں قلابازیاں کھاتا ہوا زمین سے ٹکرا گیا۔ زمین پر گرتے ہی طیارے کے ہزاروں ٹکڑے ہوگئے اور ان میں آگ لگ گئی۔ اس کے ساتھ ہی 31 قیمتی جانیں بھی جل کر لقمۂ اجل بن گئیں۔
صدر مملکت اور ان کے رفقا کے فضائی حادثے میں ہلاک ہونے کی خبر پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اسی رات سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق خان ملک کے قائم مقام صدر بن گئے جنہوں نے جنرل اسلم بیگ کو چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کرنے کا اعلان کردیا۔
تین دن بعد 20 اگست 1988ء کو جنرل محمد ضیاء الحق کو اسلام آباد میں فیصل مسجد کے سایہ تلے دفن کردیا گیا۔
جنرل ضیاء الحق کے طیارے کے حادثہ کی تحقیقات کے لئے پاکستان فضائیہ نے ایک بورڈ آف انکوائری تشکیل دیا۔ اس بورڈ آف انکوائری نے جس کے سربراہ ائیرکموڈور عباس حسین مرزا تھے چند ہفتوں میں اپنی رپورٹ مرتب کرلی۔ رپورٹ کا واحد نتیجہ یہ تھا کہ ’’امکان یہ ہے کہ یہ تخریب کاری کا ایک گھنائونا واقعہ ہے جسے طیارے کے اندر سے روبکار لایا گیا اور جو آخر کار طیارے کے حادثے کا باعث بنا

امام کعبہ نے حرم شریف میں جنرل ضیاء الحق کی امامت میں نماز کیوں ادا کی ؟


جنرل ضیاء الحق کو خانہ کعبہ میں امامت کروانے کا اعزاز اس وقت حاصل ہوا جب عین نماز کے وقت امام کعبہ امامت کے مصلے سے یہ کہتے ہوئے ہٹ گئے کہ مسلمانوں کے امام تو جنرل صاحب آپ ہیں آپ امامت کروائیں پھر جب انہوں نے نماز میں قرآن پاک کی تلاوت شروع کی تو آنکھوں سے آنسووں کی جھڑیاں اور ہچکیاں بندھ گئیں جنرل صاحب خود بھی روئے اور ان کی اقداء میں نماز پڑھنے والوں پر بھی رقعت طاری ہوگئی ۔پھر ایک مرتبہ آپ مسجد نبوی میں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضر ہوئے ۔ تو گورنر مدینہ نے آپ سے درخواست کی کہ اگر روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اندرجانے کے لیے انہیں بلاوا آئے تو وہ انہیں بھی ساتھ اندر لے جائیں جنرل صاحب نے کہا آپ تو مدینہ کے گورنر ہیں آپ جب چاہیں روضہ رسول میں جاسکتے ہیں گورنر مدینہ نے کہا نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ وہی شخص روضہ مبارک کے اندر جاسکتا ہے جس کو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلاتے ہیں ۔چنانچہ بلاوا آنے پر روضہ مبارک کا درواز ہ کھول دیاگیا اور جنرل صاحب گورنر مدینہ اور رفقاء کے ساتھ روضہ مبارک کے اندر گئے اور اتنا روئے اتنا روئے کہ ہچکی بندھ گئی امت مسلمہ اور پاکستان کے لیے دعا کرکے جب جنرل ضیا ء الحق روضہ مبارک سے باہر نکلنے لگے تو روضہ اطہر کے دروازے کے چابی برداروں نے جنرل صاحب کا بازو پکڑ لیا اور ان سے کہا کہ دوبارہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک کے اندر جائیں اور سلام عرض کریں اس طرح جنرل ضیاء الحق واحد مسلمان حکمران ہیں جنہیں ایک ہی روز میں دو مرتبہ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر جانے کی سعادت حاصل ہوئی ۔یہی نہیں دو مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام جنرل ضیاء الحق کو پہنچایا گیا ایک مرتبہ مولانا فقیر محمد( جو ولی کامل کے مرتبے پر فائز ہیں ) مدینہ شریف میں روضہ مبارک پر مراقبہ ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنرل ضیاء الحق کو میرا سلام پہنچا دو او ران سے یہ بھی کہہ دو کہ اسلامی نظام کے نفاذ میں دیر نہ کریں ۔پاکستان واپسی پر یہ پیغام مولانا فقیر محمد نے جب جنرل ضیاء الحق کو پہنچایا تو جنرل صاحب کی آنکھوں سے آنسووں کی جھڑی لگی رہی یہی وجہ ہے کہ وہ نفاذ اسلام کے لیے بہت جلدی میں تھے ۔ یہ واقعہ جنرل محمد ضیاء الحق کی شہادت سے آٹھ ماہ پہلے کا ہے

اٹھارہ آدمی مُلک فتح کرتے ہیں​

کیا آپ نے کبھی سُنا ہے کہ صرف اٹھارہ آدمیوں نے ایک بہت بڑی حکومت کی راج دھانی پر قبصہ کر لیا ہو؟
ہندوستان کی اسلامی تاریخ میں ایک ایسا واقع بھی موجود ہے ۔ اور کسی دوسرے ملک میں شائد ہی اس کی نظیر مل سکے ۔ یہ محمد بن بختیار خلیجی کا کارنامہ تھا ، جوہندوستان کے پہلے بادشاہ قطب الدین ایبک کا ایک سردار تھا ۔
محمد بن بختیار کے کارنامے افسانوں سے بھی زیادہ عجیب ہیں ۔ یہ ایک معمولی آدمی تھا ۔ پہلے اُس نے غزنی میں سپاہی بھرتی ہونے کی کوشش کی ، مگر کامیاب نہ ہوا ۔ پھر دہلی پہنچا ۔ یہاں بھی اسے کوئی جگہ نہ مل سکی تو بدایوں کی طرف چلا گیا اسلامی حکومت کی مشرقی سرحد پر تھوڑی سی زمین مل گئی اور اُس نے اپنے طور پر کچھ سوار بھرتی کر لیے
1197ء میں دو سواروں کو لے کر ہلہ بول دیا اور تھوڑے ہی دنوں میں پورے علاقے پر قابص ہو گیا قطبالدین اُس زمانے میں بادشاہ نہ تھا بلکہ سلطان محد غوری کی جانب سے نائب السطنت تھا ۔
اُسے محمد بن بختیار کے اس کارنامے کا علم ہوا تو اعلٰی درجے کا خلعت عطاکیا اور اُس کو فتح کیا ہوئے عاقے کا حاکم بنا دیا ۔
اب محمد بن بختیار کو اپنی مردانگی اور کاردانی کے جوہر دکھانے کا پورا موقع مل گیا اس نے ایک فوج تیار کی اور بنگال کے راجا رائے لکشمن سین کی راج دھانی ندیا کا رُخ کیا ۔ اس کی شہرت پہلے ہی دوردور پھیلی ہوئی تھی ۔ نِکلا تو اس تیزی سے نکلا کے ساری فوج پیچھے رہ گئی ۔ صرف اٹھارہ آدمی ساتھ تھے ۔ اسی طرح وہ شہر میں راجا کے قلعے کے دروازے مینم پہنچ گیا ۔پہنچتے ہی پہرہ داروں پر حملہ کر دیا۔اور فوج کا انتظار نہ کیا ، اسے یقین تھا کہ ساتھیوں کا کی تھوڑی تعداد کا خیال کوئی نہ کرے گا سب یہی سمجھے گے کہ بہت بڑی فوج لے کر آیا ہے بیباکانہ لڑ رہا ہے اس کا یہ خیال بالکل دُرست نکلا ۔
راجا اُس وقت کھانا کھا رہا تھا ۔ باہر سے لوگوں کی چیخ و پکار کان تک پہنچی تو حواش باختہ ہو گیا اور ننگے پاؤں بھاگا اور سُنار گاؤں میں پہنچ کر دم لیا جو کسی زمانے میں ایک بڑا شہر ہوا کرتاتھا اور اب بھی خاصہ مشہور ہے ۔ ڈھاکہ سے کوئی تیرہ کلو میٹر کے فاصلے پر ہوگا ۔ پہلے قدم پر شکست کے بعد راجا کہ لیے کہیں جم کر لڑنے میں کیا صورت تھی ۔ تھوڑے ہی دنوں میں محمد بن بختیار بہار کی طرح پورے بنگال پر قابص ہوگیا اور اپنے کارناموں کی ایسی یادگار چھوڑ‌گیا جو بڑے آدمیوں میں سے بہت تھوڑے انجام دے سکے ہیں

بے وطن شہزادہ سلطنت قائم کرتا ہے



عربوں کے ہاتھوں ہسپانیہ کی تقدیر کا آغاز 92ھ 711ء میں ہوا ۔
لیکن وہاں عربوں کی مسقبل سلطنت کا سنگِ بنیاد عبدالرحٰمن 138ھ 752ء میں رکھا وہ دمشق کہ اموی خلیفہ ہشام بن عبدلملک کا پوتا تھا ۔
عبدالرحمان پانچ سال کا تھا ، جن اُس کہ باپ معاویہ نے وفات پائی
دادا نے یتیم پوتے کو کو نازو نعمت سے پالا ۔ چونکہ اُسے ولی عہد بنانا چاہتا تھا ۔ اس لیے بڑی اعلٰی نعلیم دلائی ۔وہ بیس سال کا ہوا تو خاندان کے اقبال کا سورج ڈوب گیا ۔ حکومت عباسیوں کے قبصے میں چلی گئی ۔ اموی خاندان کے بہت سے لوگ مارے گئے ۔ عبدالرحمان جان بچا کر شام سے نِکلا اور سخت مصائب و خطرات جھیل کر مراکش پہنچا۔ کوئی سامان پاس نہ تھا ۔۔ ایک وفادار غلام کے سوا کوئی آدمی ساتھ نہ تھا ، لیکن جوانمردی اور عالی ہمتی کا یہ عالم تھا کہ نظت تاج و تخت کے سوا کسی چیز پر نہ جمتی تھی ۔
ایک معمولی کشتی میں سوار ہوکر مراکش سے ہسپانیہ پہنچا۔
وہاں کچھ لوگ اموی خاندان کے شہزادے کا نام سُن کر ساتھ ہوگئے ، لیکن قرطبہ کے حاکم نے مقابلے کی ٹھانی ۔ عبدالرحمان نے بے سروسامانی اسے شکست دے دی ۔ پھر سارے اسلام علاقوں کو ایک مرکز کے ماتحت لاکر اس بادشاہی کی بنیاد رکھی جوساڑھے تین سو سال تک قائم رہی ۔ یورپ اس کی ہیبت سے لرزتا تھا ۔اس اموی عہد میں جو عمارتیں بنیں اُن کی نظیر کوئی دوسرا مُلک پیش نہ کرسکا ۔ان میں صرف ایک مسجد باقی ہے اگرچہ اس کی پرانی شان و شوکت ماند پڑ چُکی ہے تاہم اب بھی وہ دنیا کی عبادت گاہوں میں یگانہ مانی جاتی ہے ۔
عبدالرحمان کی عظمت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ باپ دادا کی سلطنت چھن گئی کوئی بھی قابلِ ذکر چیز پاس نہ رہی ۔ بمشکل جان بچا کر وطن سے نِکلا اور بے سرو سامانی کے باوجود نئی سلطنت کا مالک بن گیا ، لیکن اس کی سیرت کا جو پہلو خاص توجہ کا مستحق ہے ! یہ ہے کہ بہت بڑی سلطنت کا فرمانرواہوتے ہوئے بھی عربی سادگی اور بےتکلفی قائم رکھی ۔ ہمیشہ سفید لباس پہنا اور سفید عمامہ باندھتا ۔ شہر میں جِن لوگوں کی بیمار ہونے کی خبر مل جاتی ، وہ امیر ہوتے یا غریب ، سب کی مزاج پرسی کے لیے اُن کے گھروں میں جاتا۔ ہر جنازے کی نماز کی نماز آپ پڑھاتا اور ہر میت کو دفن کرنے میں شریک ہوتا ۔ جو شخص بھی ملاقات کے لیے آجاتا ۔ اس سے بے تکلف ملتا ۔ ہرشکایت پر خود توجہ کرتا اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں بڑے چھوٹے یا طاقتور اور کمزور میں امتیاز کو روانہ رکھتا ۔ ایک بار سوار ہو کر باہر جا رہاتھا ۔ ایک شخض نے اس کے گھوڑے کی باگ تھام کر روک اور کہا کہ جب تک میرا انصاف نہ کرو گے ،ہلنے نہ دونگا عبدالرحمان نے فوراََ قاضی کو بُلوایا اور کھٹرے کھٹرے اپنے سامنے فریادی کا فیصلہ کروا دیا

پہلا ہوائی جہاز اُڑتا ہے


اب انسان چاند پر پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے اور فصائے محیط پر پرواز کرتے ہوئے چاند تک پہنچ جانا سائسندانوں کے لئے اب کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ اس کے امکان کے لئے قیل و قال کی جائے 
بلکہ اب یہ اندازہ کیا جا رہا ہے کہ اس مہم پر کتنا خرچ ہو گا ۔ان حالات میں دلبررائٹ اور آرویل رائٹ کسے یاد رہیں ۔جنہوں نے سب سے پہلے امریکہ میں پرواز کی تھی ۔
جن ان بھائیوں نے فصائے آسمانہ پر پرواز کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا تو صورتِ حال ایسی تھی کہ لوگ زمین اوپر اُٹھنے کے امکانات کو چنداں وقعت نہ دیتے تھے ۔دلبرا اور آرویل نے بہت جلد دریافت کر لیا کہ ہوائی حرکیات کے بارے میں جتنے نظریات موجود ہیں ۔اس میں سے بیشتر اصل مقصد سے ہٹے ہوئے ہیں
انہوں نے خود ایک نل بنایا جس میں پروا کے خود ہی تجربات کرتے رہے ۔وہ دونوں غیر شادی شدہ تھے ۔
دن بھر سائیکل کی دکان پر کام کرتے اور گھر آکر اپنا سارا وقت تجربات میں گزارتے ۔
آخر انہوں نے کنٹرول کا ایک نظام دریافت کرلیا جس کے ذریعے سے ہوا کا دباؤ مشین کے مختلیف حِصوں میں بدلتا رہتا تھا اور اسے رجسڑ کرالیا ۔
ہوا کے نل میں جو تجربات کرتے رہتے تھے ان کی بنا پر انہوں نے قبل ازوقت علان کردیا کہ ہم ہوا میں پرواز کریں گے ،چنانچہ ایک ایسا جہاز تیار کر لیا جس میں ابتدائی تخمینے کے خلاف ایک چوتھائی سے نصف تک قوت ہوتی تھی ۔
ان کا جہاز چار سلنڈر کا تھا ۔
اس میں بارہ گھوڑوں کی طاقت کا انجن لگایا گیا جو پٹرول سے چلتا تھا ایک مسافر کا وزن شامل کر کہ جہاز کا کُل وزن ساڑھے سات سو پونڈ تھا ۔دسمبر 1903 کو یہ جہاز کٹی ہاک پہنچا 17 دسمبر کو آرویل نے اس میں چار مرتبہ پرواز کی ۔
جہاز تقریباََ ایک منٹ پرواز میں رہا اور صرف تیس میل فی گھنٹے کی رفتار سے پرواز کر سکا مگر آجکل تو ہوائی ترقی کر کے کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں