The Daily Mail Urdu

Sunday, July 17, 2016

ایک فتنے باز یہودی

ایک فتنے باز یہودی
عبداللہ بن سباایک شریراور فتنہ باز یہودی تھا جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت میں منافق بن کر مسلمان ہوگیا تھا۔ کچھ دن مکہ ومدینہ میں رہامگر یہاں اس کاداؤنہ چلا تو پھر یہ منافق شہرابصرہ میں گیا۔
عبداللہ بن سباایک شریراور فتنہ باز یہودی تھا جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت میں منافق بن کر مسلمان ہوگیا تھا۔ کچھ دن مکہ ومدینہ میں رہامگر یہاں اس کاداؤنہ چلا تو پھر یہ منافق شہرابصرہ میں گیا۔ کچھ وہاں نقص پھیلایا پھر کوفہ میں گیا مگر کہیں پورے طور سے اس کو موقعہ نہ ملا۔ جب مصر میں آیاتو اہل مصر کواس بات کی تعلیم دی کی بتاؤ کہ محمد ﷺ کا مرتبہ زیادہ ہے یاعیسیٰ کا؟ سب نے کہا کہ ہمارے حضرت محمدﷺ کا مرتبہ زیادہ ہے۔ اس نے کہا تو بڑا افسوس ہے کہ عیسیٰ  تو قیامت سے پہلے دنیا میں آویں اور کافروں کو ہلاک کریں اور حضور ﷺ نے آویں۔ اور آپﷺ کے دمن جوچاہیں کرتے رہیں یہ بات کب اور کیسے ہوسکتی ہے؟ بعض اہل مصرنے رجعت کایہ مسئلہ مان لیا۔ جب اس یہودی کا یہ داؤ چل گیا تو پھر وہ ایک قدم اور آگے بڑھااور کہنے لگاکہ ہر نبی ایک وصی ہوتا ہے اور جناب نبی کریمﷺ کے وصی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ خلافت کا حق وصی کاہوتا ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے خلافت کو غصب کرلیا ہے تم کسی طرح عثمان رضی اللہ عنہ کو خلافت سے الگ کرو اور علی کو مسند خلافت پہ بٹھاؤ۔ یہ بے دین یہودی حضرت علی رضی اللہ عنہ کابھی خیرخواہ نہ تھا وہ تو محض مسلمانوں میں افتراق پیداکرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ کئی لوگ ا س کے اس داؤ میں بھی آگئے اور کہنے لگے کہ ہم عثمان رضی اللہ عنہ کو کس طرح خلافت سے الگ کریں؟ وہ بولا کہ تم سب سے پہلے تو جوحاکم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے مصر پر مقرر ہیں ان کی شان میں اعتراض کرو۔ وہاں لے لوگوں کو اپنی طرف راغب کرواور جگہ جگہ مصر میں اور بصرہ میں خط روانہ کرو۔ چنانچہ جگہ جگہ سے خط حاکموں کے متعلق شکاتیوں کے لکھے جانے لگے اور رائے عامہ کو اس طور ہموار کیاجانے لگا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ حاکم ظلم کرتے ہیں۔ بہت سے کوفہ اور بصرہ کے لوگ بھی اس سازش میں شریک ہوگئے۔ یہاں تک کہ اہل مصرواہل کوفہ وبصرہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ اور تو ہم ہر طرح چین سے ہیں مگر آپ رضی اللہ عنہ کے حاکم ہم پر بڑا ظلم کرتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ انہیں موقوف کردیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ نے جواب میں لکھا کہ جس جس پر میرے عاملوں نے ظلم کیا ہے وہ اس مرتبہ ضرور حج کرنے آئے۔ میرے عامل بھی آئینگے اس وقت سب کے ظلم کابدلہ ان سے لے جائے گا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ادھر اپنے سب عاملوں کو طلب کرلیا۔ چنانچہ حکام تو سب آگئے مگر شکایت کرنے والوں میں سے کوئی بھی نہ آیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان حاکموں سے پوچھا کہ تم کیوں ظلم کرتے ہو؟ تو ان سب نے عرض کیا کہ یہ بات بالکل غلط اور بناوٹی ہے۔ ہم نے کبھی ظلم نہیں کیا۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی معلوم کرلیا کہ یہ محض شرارت اور جھوٹ کاپلندہ ہے۔

درود شریف کی فضیلت

درود شریف کی فضیلت
ترجمہ:بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم پرصلوٰة بھیجتے ہیں، اے ایمان والو ! تم (بھی) ان پر صلوٰة اور خوب سلام بھیجو۔(سورة الاحزاب:۶۵)اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
ترجمہ:بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم پرصلوٰة بھیجتے ہیں، اے ایمان والو ! تم (بھی) ان پر صلوٰة اور خوب سلام بھیجو۔(سورة الاحزاب:۶۵)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود شریف پڑھتا ہے ، اللہ رب العالمین اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ (مسلم ، نسائی ، ترمذی )۔
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کثرت سے درود شریف پڑھتا ہوں ، اپنی د عا میں سے کتنا وقت درود شریف کیلئے وقف کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !جتنا تو چاہے میں نے عرض کیا : ایک چو تھائی صحیح ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !جتنا تو چاہے ، میں نے عرض کیا : نصف وقت مقرر کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنا تو چاہے ، لیکن اگر اس سے زیادہ کرے تو تیرے لئے اچھا ہے۔ میں نے عرض کیا : دو تہائی مقرر کروں ؟ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! جتنا تو چاہے ، لیکن اگر زیادہ کرے تو تیرے ہی لئے بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا ،میں اپنی ساری دعا کا وقت درود شریف کیلئے وقف کرتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ! یہ تیرے سارے دکھوں اور غموں کیلئے کافی ہو گا اور تیرے گناہوں کی بخشیش کا باعث ہو گا۔ (ترمذی)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر لانے کا حکم دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا : آمین ! پھر دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا : آمین ! پھر تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا : آمین !خطبہ سے فارغ ہونے کے بعدجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے تو صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا :آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی بات سنی جو اس سے پہلے نہیں سنی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جبریل علیہ السلام تشریف لائے اورکہا ہلاکت ہے اس آدمی کیلئے جس نے رمضان کا پورا مہینہ پایا اور وہ اپنے گناہ نہ بخشوا سکا۔میں نے جواب میں کہا :آمین۔پھر جب میں نے دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو جبریل علیہ السلام نے کہا :ہلاکت ہو اس آدمی کیلئے جس کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا جائے اور وہ درود شریف نہ پڑھے۔میں نے جواب میں کہا :آمین۔پھر جب میں نے تیسری سیڑھی پر قدم رکھا ،تو جبریل علیہ السلام نے کہا :ہلاکت ہو اس آدمی کیلئے جس کے سامنے اس کے ماں باپ یا دونوں میں سے ایک بڑھاپے کی عمر کو پہنچے اور وہ انکی خدمت کرکے جنت حاصل نہ کی۔میں نے جواب میں کہا :آمین۔ (حاکم)

شہادت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

شہادت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
خلافت راشدہ کے دوسر ے تاجدار اسلامی تاریخ کی اولوالعزم، عبقری شخصیت ،خسر رسول ﷺ داماد علی المرتضیٰ ، رسالت کے انتہائی قریبی رفیق ، خلافت اسلامیہ کے تاجدار ثانی حضرت عمر بن خطاب وہ خلیفہ ہیں جنہیں اپنی مرضی سے نہ بولنے والے پیغمبر خداﷺنے غلاف کعبہ پکڑ کر دعا مانگی تھی
خلافت راشدہ کے دوسر ے تاجدار اسلامی تاریخ کی اولوالعزم، عبقری شخصیت ،خسر رسول ﷺ داماد علی المرتضیٰ ، رسالت کے انتہائی قریبی رفیق ، خلافت اسلامیہ کے تاجدار ثانی حضرت عمر بن خطاب وہ خلیفہ ہیں جنہیں اپنی مرضی سے نہ بولنے والے پیغمبر خداﷺنے غلاف کعبہ پکڑ کر دعا مانگی تھی اے اللہ مجھے عمر بن خطاب عطا فرما دے یا عمرو بن ہشام ۔دعائے رسول کے بعد عمر بن خطاب تلوار گردن میں لٹکائے ہاتھ بندھے سیدھے دروازہ رسولﷺ پر پہنچے صحابہ کرام نے جب یہ آنے کی کیفیت دیکھی تو بارگاہ رسالت میں دست بستہ عرض کی یا رسول اللہ ﷺ عمر اس حالت میں آ رہے ہیں تو آپ نے فرمایا انہیں آنے دو۔نیت اچھی تو بہتر ورنہ اسی تلوار سے اس کا سر قلم کردیا جائے گا۔جب بارگاہ رسالت میں عمر بن خطاب حاضر ہوئے دست رسول ﷺ پر بیعت کر کے کلمہ طیبہ پڑھا تو فلک شگاف نعروں سے نعرہ تکبیر کی صدائیں بلند ہوئیں تو ہر طرف بخِِ بخِِ کی صدائیں گونجیں جس عمر بن خطاب کے آنے پر اتنی خوشیاں منائی گئیں ۔جس کے رعب اور دب دبہ سے دشمنان اسلام اس قدر حواس باختہ ہوتے تھے کہ بے شک یہ مرد قلندر کھلے آسمان تلے تن تنہا تلوار اور کوڑا لٹکا کر آرام کر رہا ہوتا تھا مگر کسی کو یہ جرا ت نہ ہوتی تھی کہ عمر بن خطاب کا کوڑا یا تلوار اْٹھاتا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ دوسرے خلیفہ راشد ہیں ، نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد آپ کا رتبہ سب سے بلند ہے آپ کے بارے میں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا(ترمذی ) ۔عمر کی زبان پر خدا نے حق جاری کر دیا ہے (بیہقی)، جس راستے سے عمر گزرتا ہے شیطان وہ راستہ چھوڑدیتا ہے (بخاری ومسلم)۔میرے بعد ابوبکر وعمر کی اقتداء کرنا( مشکٰو)۔ آپنے ہجرت نبوی کے کچھ عرصہ بعد بیس افراد کے ساتھ علانیہ مدینہ کو ہجرت کی ، آپ نے تمام غزوات میں حصہ لیا۔634ء میں خلافت کے منصب پہ فائزکیے گئے۔644ء تک ا س عہدہ پر کام کیا۔
آپ کے دور خلافت میں اسلامی سلطنت کی حدود 22لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھیں آپ کے اندازحکمرانی کودیکھ کر ایک غیر مسلم یہ کہنے پہ مجبور ہوگیاکہ اگر عمر کو 10سال خلافت کے اور ملتے تو دنیا سے کفر کانام ونشان مٹ جاتا۔ حضرت عمر کازمانہ خلافت اسلامی فتوحات کا دور تھا۔اس میں دو بڑی طاقتوں ایران وروم کو شکست دے کرایران عراق اور شام کو اسلامی سلطنتوں میں شامل کیا۔بیت المقدس کی فتح کے بعدآپ خودوہاں تشریف لے گئے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مشہور قول ہے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو عمر سے پوچھا جائے گا اس قدر خوف خدا رکھنے والا راتوں کو جاگ کر رعایا کی خدمت اور جس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کی تائید میں سورئہ نور کی آیات مبارکہ کا نازل ہونا جس نے اپنی آمد پر مدینہ کی گلیوں میں اعلان کیا۔کوئی ہے جس نے بچوں کو یتیم کرانا ہو ، بیوی کو بیوہ کرانا ہو ، ماں باپ کی کمر جھکانا ہو ، آنکھوں کا نورگم کرانا ہو ،آئے عمر نے محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی کا دعویٰ کر لیا ہے آج سے اعلانیہ اذان اور نماز ہوا کرے گی۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سب سے پہلے امیرالمومنین کہہ کر پکارے گئے آپ نے بیت المال کا شعبہ فعال کیا اسلامی مملکت کو صوبوں اور ضلعوں میں تقسیم کیا عشرہ خراج کا نظام نافذ کیا مردم شماری کی بنیاد ڈالی قاضیوں کیلئے خطیر تنخواہیں متعین کیں۔ احداث یعنی پولیس کا محکمہ قائم کیا جیل خانہ وضع کیا اورجلاوطنی کی سزا متعارف کی سن ہجری جاری کیا زراعت کے فروغ کیلئے نہریں کھدوائیں۔
اسلام کے اس عظیم سپوت کی فتوحات سے اہل باطل اتنے گھبرائے کے سازشوں کا جال بچھا دیا اور ایک ایرانی بد بخت مجوسی ابو لولو فیروز نے یکم محرم الحرام 23 ہجری کو امام عدل و حریت ، خلیفہ راشد، امیر المومنین ، فاتح عرب وعجم پر حملہ کر کے مدینہ منورہ میں شہید کر دیا۔آپ روضہ رسول ﷺ میں آنحضرت ﷺ کے پہلو مبارک میں مدفن ہیں۔

ضروریات زندگی میں اسراف اور کشادگی

Mufti Taqi Usmani Sahab 
ضروریات زندگی میں اسراف اور کشادگی(فراخ دلی) میں فرق کس طرح کیا 
جائے؟

بعض لوگوں کے دلوں میں یہ خلجان رہتا ہے کہ شریعت میں ایک طرف تو فضول خرچی اور اسراف کی ممانعت آئی ہے اور دوسری طرف یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ گھر کے خرچ میں تنگی مت کرو، بلکہ کشادگی سے کام لو،اب سوال یہ ہے کہ دونوں میں حد فاصل کیا ہے؟ کونسا خرچہ اسراف میں داخل ہے اور کونسا خرچہ اسراف میں داخل نہیں؟اس خلجان کے جواب میں حضرت تھانوی رحمہ نے گھر کہ بارے میں فرمایا کہ ایک گھر وہ ھوتا ہے جو قابل رہائش ہو، مثلا جھونپڑی ڈال دی یہ چھپڑ ڈال دیا اس میں بھی آدمی رہائش اختیار کر سکتا ہے،یہ تو پہلا درجہ ہے،جو بلکل جائز ہے۔دوسرا درجہ یہ ہے کہ رہائیش بھی ہو اور ساتھ میں آسائش بھی ہو،مثلا پختہ مکان ہے،جس میں انسان آرام کے ساتھ رہ سکتا ہے،اور گھر میں آسائیش کے لیے کوئی کام کیا جائے تو اس کی ممانعت نہیں ہے،اور یہ بھی اسراف میں داخل نہیں، مثلا ایک شخص ہے وہ جھونپڑی میں بھی زندگی بسر کر سکتا ہے اور دوسرا شخص جھونپڑی میں نہیں رہ سکتا اس کو تو رہنے کے لیے پختہ مکان چاہیے، اور پھر اس مکان میں بھی اس کو پنکھا اور بجلی چائیے، اب اگر وہ شخص اپنے گھر میں پنکھا اور بجلی اس لیے لگاتا ہے تاکہ اس کو آرام حاصل ہو تو یہ اسراف میں داخل نہیں۔تیسرا درجہ یہ ہے کہ مکان میں آسائیش کہ ساتھ آرئیش بھی ہو،مثلا ایک شخص کا پخہ مکان بنا ہوا ہے، پلاستر کیا ہوا ہے، بجلی بھی ہے، پنکھا بھی ہے، لیکن اس مکان پر رنگ نہیں کیا ہوا ہے، اب ظاہر ہے کہ رہائیش تو ایسے مکان میں بھی ہو سکتی ہے،لیکن رنگ و روغن کہ بغیر آرائیش نہیں ہو سکتی اب اگر کوئی شخص آرئیش کے حصول کے لیے مکان پر رنگ و روغن کرائے تو شرعاً وہ بھی جائز ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ رہائش جائز،آسائش جائز، آرائش جائز،اور آرائش کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی انسان اپنے دل کو خوش کرنے کے لیے کوئی کام کر لے تاکہ دیکھنے میں اچھا معلوم ہو، ہیکھ کر دل خوش ھو جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں،شرعاً یہ بھی جائز ہے۔اس کے بعد چوتھا درجہ ہے “نمائش”، اب جو کام کر رہا ہےاس سے نا تو آرام مقصود ہے، نہ آرائش مقصود ہے بلکہ اس کام کا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگ مجھے بڑا دولت مند سمجھیں، اور لوگ یہ سمجھیں کہ اس کےپاس بہت پیسا ہے،اور تاکہ اس کے زریعہ دوسروں پر اپنی فوقیت جتائوں اور اپنے آپ کو بلند ظاہر کروں،یہ سب “نمائش” کہ اندر داخل ہیں اور یہ شرعاً نا جائز ہے اور اسراف میں داخل ہے۔یہی چار دراجات لباس اور کھانے میں بھی ہیں، بلکہ ہرچیز میں ہیں،ایک شخص اچھا اور قیمتی کپڑا اس لیے پہنتا ہے تاکہ مجھے آرام ملے اور تاکہ مجھے اچھا لگے اور میرے گھر والوں کو اچھا لگے، اور ملنے جلنے والے اس کو دیکھ کر خوش ہوں،تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں،لیکن اگر کوئی شخص اچھا اور قیمتی لباس اس نیت سے پہنتا ہے تاکہ مجھے دولت مند سمجھا جائے مجھے بہت پیسے والا سمجھا جائے اور میرا بڑا مقام سمجھا جائے تو یہ نمائش ہے اور ممنوع ہے،اسی لیے حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ نےاسراف کے بارے میں ایک واضح حد فاصل کھنچ دی کہ اگر ضرورت پوری کرنے کے لیے خرچ کیا جا رہا ہے، یہ آسائش کہ حصول کے لیے یہ اپنے دل کو خوش کرنے کے لیےآرائش کے خاترکوئی خرچہ کیا جا رہا ہے وہ اسراف میں داخل نہیں۔میں ایک مرتبہ کسی دوسرے شہر میں تھا اور واپس کراچی آنہ تھا، گرمی کا موسم تھا،میں نے ایک صاحب سے کہا کہ ائیر کنڈیشن کوچ میں میرا ٹکٹ بک کرا دو، اور میں نے ان کو پیسے دے دیے، ایک دوسرے صاحب پاس بیٹھے ہوئے تھے،انہوں نے فورنً کہا کہ صاحب! یہ تو آپ اسراف کر رہے ہیں اس لیے کہ ائیر کنڈیشن کوچ میں سفر کرنا تو اسراف میں داخل ہے، بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اگر اوپر کہ درجے میں سفر کر لیا تو یہ اسراف میں داخل ہے، خوب سمجھ لیجئے! اگر اوپر کے درجے میں سفر کرنے کا مقصد راہت حاصل کرنا ہے،مثلاً گرمی کا موسم ہے، گرمی برداشت نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ نے پیسے دیے ہیں تو پھر یس درجے میں سفر کرنا کوئی گناہ اور اسراف نہیں ہے،لیکن اگر اوپر کہ درجے میں سفر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب میں ائیر کنڈیشن کوچ میں سفر کروں گا تو لوگ یہ سمجھیں گے کہ یہ بڑا دولت مند آدمی ہے، پھر وہ اسراف اور ناجائز ہے،اور نمائش میں داخل ہے، یہی تفصیل کپڑے اور کھانے میں بھی ہے

حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ

اور (اے پیغمبر! اس وقت کا تصور کرو) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ : ”میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔” تو وہ کہنے لگے۔”کیا تو اس میں ایسے شخص کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد مچائے گا اور (ایک دوسرے کے) خون بہائے گا۔

(البقرہ )
ترجمہ:
اور (اے پیغمبر! اس وقت کا تصور کرو) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ : ”میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔” تو وہ کہنے لگے۔”کیا تو اس میں ایسے شخص کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد مچائے گا اور (ایک دوسرے کے) خون بہائے گا۔جبکہ ہم تیری حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح وتقدیس بھی کر رہے ہیں۔”اللہ تعالیٰ نے انہیں جواب دیا کہ ”جو کچھ میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔” (اس کے بعد) اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے اسماء (نام یا صفات و خواص) سکھا دیئے۔ پھر ان اشیاء کو فرشتوں کے روبرو پیش کر کے ان سے کہا کہ اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو مجھے ان اشیاء کے نام بتا دو”۔ فرشتے کہنے لگے نقص سے پاک تو تیری ہی ذات ہے۔ ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہمیں سکھایا ہے اور ہر چیز کو جاننے والا اور اس کی حکمت سمجھنے والا تو تو ہی ہے۔”۔ اللہ تعالیٰ نے آدم سے فرمایا ”اے آدم! ان (فرشتوں) کو ان اشیاء کے نام بتا دو۔” تو جب آدم نے فرشتوں کو ان چیزوں کے نام بتا دیئے تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا : کیا میں نے تمہیں یہ نہ کہا تھا کہ میں ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں جانتا ہوں اور ان باتوں کو بھی جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور ان کو بھی جو تم چھپاتے ہو؟”۔ اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ : آدم کو سجدہ کرو۔ تو سوائے ابلیس کے سب فرشتوں نے اسے سجدہ کیا ابلیس نے اس حکم الہی کو تسلیم نہ کیا اور گھمنڈ میں آ گیا اور کافروں میں شامل ہوگیا۔ پھر ہم نے آدم سے کہا کہ: تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں آباد ہوجاوٴ اور جہاں سے چاہو (اسکے پھل) جی بھر کے کھاوٴ۔ البتہ اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ تم دونوں ظالموں میں شمار ہوگے۔ آخر کار شیطان نے اسی درخت کی ترغیب دیکر آدم و حوا دونوں کو ورغلا دیا۔ اور جس حالت میں وہ تھے انہیں وہاں سے نکلوا کر ہی دم لیا۔ تب ہم نے کہا: تم سب یہاں سے اتر (نکل) جاوٴ۔ کیونکہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ اور اب تمہیں ایک معین وقت (موت یا قیامت ) تک زمین میں رہنا اور گزر بسر کرنا ہے۔ پھر آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی۔ بلاشبہ وہ بندوں کی توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔ ہم نے کہا : تم سب کے سب یہاں سے نکل جاوٴ۔ پھر جو میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے اور جس نے میری ہدایت کی پیروی کی تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
حضرت آدم علیہ السلام دنیا کے پہلے انسان بھی ہیں اور پیغمبر بھی۔ جب اللہ نے انسان کو دنیا میں بھیجنے کا ارادہ کیا تو اس سے قبل چند اہم اقدامات کئے۔ ایک اقدام تو یہ تھا کہ تمام انسانوں کی ارواح کو شعور دے کر انہیں دنیا کی زندگی کی آزمائش کے بارے میں بتایا کہ انہیں اچھے اور برے کی تمیز کی آزمائش میں ڈالا جارہا ہے اور جو کامیاب ہوگا اس کا بدلہ جنت اور ناکاموں کا بدلہ جہنم ہے۔سورہ احزاب کی ایک آیت کے مطابق انسان نے اس اسکیم کو سمجھ کر اسے قبول کرنے کا ارادہ کرلیا۔ اس کے بعد اللہ نے انسان کی تمام ارواح کو اپنے بارے میں باخبر کیا اور ان سے نہ صرف اپنے رب ہونے کا اقرا کروایا بلکہ اپنے تنہا الٰہ ہونے کا شعور بھی اس کی فطرت میں ودیعت کردیا۔ اس سے اگلا مرحلہ وہ ہے جس کا اوپر کی آیات میں ذکر ہے۔ یعنی اللہ نے اپنا یہ منصوبہ فرشتوں اور جنات کے سامنے رکھا کیونکہ یہ دونوں ذی شعور اور صاحب ارادہ مخلوقات تھیں اور ان کا انٹرایکشن انسان سے ہونا تھا۔ جب اللہ نے فرشتوں اور جنات کے سامنے یہ منصوبہ رکھا کہ ایک ذی شعور صاحب اختیار ہستی کو دنیا میں بھیجا جانے والا ہے تو فرشتوں کو صاف نظر آگیا کہ انسان اپنے اختیار کا غلط استعمال کرے گا جس کے نتیجے میں خون خرابا بھی ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے اپنا اشکال سامنے رکھ دیا۔لیکن اللہ نے ان کا اشکال اس طرح دور کیا کہ حضرت آدم علیہ السلا م کو ان ہستیوں کے نام یاد کرادئیے جنہوں نے آگے جاکر پیغمبر، ولی، صدیق، شہداء اور صالحین بننا تھا۔ پھر حضرت آدم کو حکم دیا کہ تم فرشتوں کو ان پاکیزہ و مقرب ہستیوں کے نام بتادو۔ چنانچہ جب حضرت آدم نے یہ نام پیش کئے تو فرشتوں نے اپنے اشکال کو واپس لے لیا۔اس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ اختیار کے آپشن کو غلط استعمال کرنے والے بدبخت ہونگے تو دوسری جانب اسی دنیا میں خدا کے آگے جھک جانے والے اور اپنی زندگی خدا کی مرضی کے مطابق گذارنے والے نیک لوگ بھی تو ہونگے۔
اس کے بعد اگلے مرحلے تمام جنات و فرشتوں کو انسان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ دونوں مخلوقات انسان کی آزادی و اختیار میں کوئی مداخلت نہیں کریں گی۔ جنات میں سے شیطان نے جھکنے سے انکار کردیا جو اس بات کا علان تھا کہ وہ انسان کو آزادی و آسانی کے ساتھ خدا کی رضا حاصل نہیں کرنے دینا چاہتا۔ چنانچہ اللہ نے اسے راندہ درگا ہ کردیا۔
پھر اللہ نے حضرت آدم اور حضرت حوا کو دنیا میں بھیجے جانے سے قبل دنیا کی زندگی میں پیش آنے والی آزمائش سے آگاہ کرنے کے لئے ایک جنت میں بھیجا۔ اس جنت میں انہیں تمام سہولیات دی گئیں بس ایک درخت کا پھل کھانے سے روک دیا۔ شیطان نے اپنا مشن شروع کردیا اور انہیں ورغلایا۔ ابتدا میں تو دونوں انکار کرتے رہے لیکن ایک وقت آیا کہ دونوں شیطان کی باتوں میں آگئے اور اس درخت کا پھل کھالیا۔ اس کے نتیجے میں وہ جنت کی سہولیات سے محروم ہوگئے۔ جب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے اللہ کی جانب رجوع کرلیا۔ اس پر اللہ نے انہیں معاف بھی کردیا۔ اب اس ابتدائی جنت کی تربیت مکمل ہوچکی تھی اس لئے اللہ نے دونوں کو دنیا میں بھیج کر اس امتحان کی ابتدا کردی جس میں ہم سب آزمائے جارہے ہیں۔شیطان ایک عالم و فاضل اور عبادت گذار ہستی ہونے کو باوجود بہک گیا اور محض حسد کی بنا پر سجدے سے انکار کردیا۔ اس سے یہ ثابت ہو ا کہ حسد اتنی بڑی بری بیماری ہے.شیطان اور حضرت آدم علیہ السلام دونوں سے غلطی ہوئی۔ لیکن دونوں کا رد عمل مختلف تھا۔شیطان نے سجدہ سے انکار کیا اور جب اللہ نے اسے اس کی غلطی کی احساس دلایا تو اس نے غلطی تسلیم کرنے اور معافی مانگنے کی بجائے خود اللہ ہی کو قصور وار ٹہرادیا۔ دوسری جانب حضرت آدم و حوا کو جب اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ اکڑنے کی بجائے عجزو انکساری کا پیکر بن گئے۔ چنانچہ اللہ نے شیطان کو مردود بنادیا اور حضرت آدم و حوا کو مقبول۔آج بھی انسان سے یہی رویہ مطلوب ہے کہ جب بھی غلطی ہوجائے تو وہ اکڑنے ، گناہ پر اصرار کرنے اور اس کے لئے تاویلیں تلاش کرنے کی بجائے جھک جائے، سرنڈر کردے اور خدا کی مغفرت کا طلبگار بن جائے۔

موبائل گیم ’پوکی مون گو‘ نے ریلیز ہوتے ہی مقبولیت کے جھنڈے گاڑ دئیے

ہرچھوٹا بڑا شخص پوکی مون گو کے بخار میں مبتلا، گیم نے ریلیز ہوتے ہی مقبولیت کےجھنڈے گاڑ دئیے۔
لندن: بچوں اور بڑوں کے پسندیدہ کریکٹر پوکی مون کے نئے موبائل گیم ‘’پوکی مون گو‘ نے ریلیز ہوتے ہی مقبولیت کےجھنڈے گاڑ دئیے، ایک وقت میں اتنے زیادہ افرادنے گیم ڈاؤن لوڈ کرنے کی کوشش کی کہ اس کا سرور ہی کریش کرگیا۔
ہر چھوٹا بڑا شخص پوکی مون کے بخارمیں مبتلا نظرآنے لگا ہے جس کی وجہ سے گیم نے اپنی ریلیز کے دو دن بعد ہی کئی ریکارڈ اپنے نام کرلیے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس گیم پر ہر شخص اوسطاً 43 منٹ 22 سیکنڈ صرف کرتا ہے جو کہ انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ اور واٹس ایپ صارفین سے زائد ہے۔
اسمارٹ فون صارفین کی ایک بڑی تعداد اس ویڈیو گیم کو ڈاؤن لوڈ کرچکی ہے، جب کہ اچانک لاکھوں افراد کی جانب سے گیم کو ڈاؤن لوڈ کرنے کی کوشش کے باعث اس سرور ہی کریش کرگیا۔
پوکی مون گیم کا شوق پاگل پن کی تمام حدوں کو چھو چکا ہے، امریکا میں دو دوست پوکی مون گیم میں اتنے گم ہوئے کہ وہ نوے فٹ بلند پہاڑی سے نیچے جاگرے۔ بات یہی ختم نہیں ہوئی بلکہ نیوزی لینڈ کے شہری ٹام نے تو اس گیم کے شوق میں اپنی نوکری کو ہی لات دے ماری۔
پوکی مون ایک غیرحقیقی جانور نما مخلوق ہے جن کو پوکی بال میں پکڑا جاتا ہے، پکڑے جانے کے بعد پوکی اپنا درجہ بڑھاتا اور مزید طاقتور ہو جاتا ہے ۔ اس گیم کا آغاز 1996 میں گیم بوائے ایڈوانس کی ویڈیو گیم کے طور پر ہوا تھا اب تک پوکی مون کے 781 تصوراتی اور انفرادی کردارتخلیق کئے جاچکے ہیں۔