The Daily Mail Urdu

Monday, August 1, 2016

ایک یہودی نے روس چھوڑ کر اسراہیل میں ہائش اختیار کی


ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻧﮯ ﺭﻭﺱ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺱ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﺋﺮﭘﻮﺭﭦ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﻼﺷﯽ ﻟﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻟﯿﻨﻦ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﺠﺴﻤﮧ ﺑﺮ ﺁﻣﺪ ﮨﻮﺍ۔
ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺟﻨﺎﺏ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻏﻠﻂ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ! ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟
ﯾﮧ ﻟﯿﻨﻦ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺷﺘﺮﺍﮐﯿﺖ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺭﻭﺳﯽ ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺑﮍﺍ ﻓﯿﻦ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﺎﺩﮔﺎﺭ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﺠﺴﻤﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔
ﺭﻭﺳﯽ ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ ﺑﮍﺍ ﻣﺘﺎﺛﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ : ﺟﺎﻭ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ۔
ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻣﺎﺳﮑﻮ ﺳﮯ ﺗﻞ ﺍﺑﯿﺐ ﺍﺋﺮﭘﻮﺭﭦ ﭘﺮ ﺍﺗﺮﺍ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﻼﺷﯽ ﻟﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﺠﺴﻤﮧ ﺑﺮ ﺁﻣﺪ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﯾﮩﻮﺩﯼ : ﺁﭖ ﮐﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟
ﯾﮧ ﻣﺠﺮﻡ ﻟﯿﻨﻦ ﮨﮯ ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺱ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﺍ !
ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺠﺴﻤﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﺎﺩﮔﺎﺭ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻻﯾﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺻﺒﺢ ﻭ ﺷﺎﻡ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻟﻌﻨﺖ ﺑﮭﯿﺞ ﺳﮑﻮﮞ !
ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ ﻣﺘﺎﺛﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ : ﺟﺎﺅ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ۔
ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﺴﻤﮧ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ۔
ﺧﯿﺮﯾﺖ ﺳﮯ ﺍﺳﺮﺋﯿﻞ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭ ﻣﻠﻨﮯ ﺁﺋﮯ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﺘﯿﺠﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ ﺑﻮﻻ : ﺍﻧﮑﻞ ﯾﮧ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟
ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺑﻮﻻ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺳﻮﺍﻝ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﯾﮧ ﺩﺱ ﮐﻠﻮ ﺳﻮﻧﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﭩﻢ ﮐﮯ ﻻﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺠﺴﻤﮧ ﺑﻨﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﭨﯿﮑﺲ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﭩﻢ ﮐﮯ ﻻﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﺍ۔
ﻣﺎﺧﻮﺫ

بشار_الاسد کی اہلیہ کی تصویر حلب کے باسیوں کے زخموں پر نمک

شامیوں کی ایک بڑی تعداد نے اُس تصویر پر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے جس سے شامی حکومت کی خودنمائی واضح طور پر جھلک رہی ہے۔ بالخصوص ایسے وقت میں جب کہ بشار الاسد کی اپنے عوام کے خلاف جنگ میں پانچ لاکھ کے قریب افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور ایسے وقت میں جب کہ بشار کی فوجیں حلب شہر کو بمباری اور تباہی کا نشانہ بنا رہی ہیں۔
شامی حکومت کی جانب سے بشار الاسد کے فیس بک پیج پر شامی صدر کی اہلیہ کی ایک تصویر نشر کی گئی ہے۔ تصویر میں خاتون اوّل حلب شہر سے آئے ہوئے ایک فوجی کے زخم کو "ہاتھ سے چُھو کر شفقت کا اظہار" کر رہی ہیں۔
تصویر کے حوالے سے بہت سے تمسخر اڑانے والے تبصرے بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک تبصرے میں کہا گیا ہے کہ "شفقت سے بھرپور لمس قصاب کی چُھری کے اثرات مٹانے کے لیے کافی ہو گی"۔
ہفتے کے روز جاری کی گئی تصویر میں حلب شہر سے تعلق رکھنے والا بشار الاسد کا زخمی حامی "فادی" اور اس کا باپ نظر آرہے ہیں۔ تصویر نے سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنان میں غیض و غضب اور برہمی کی لہر دوڑا دی۔ حلب وہ شہر ہے جس کے لیے بشار الاسد ، اس کی فرقہ وارانہ ملیشیاؤں ، ایرانی پاسداران انقلاب ، لبنانی تنظیم حزب اللہ کے ارکان سب نے خود کو فارغ کر لیا ہے اور بھرپور طریقے سے قتل ، تباہی و بربادی ، گرفتاری اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں۔
تصویر پر کیے جانے والے تبصروں کے مطابق اس "غیرمسبوق انسانی لمس" کے ذریعے اس حقیقت کو چھپایا نہیں جا سکتا کہ " آل اسد نے شام کو تباہ اور اس کے عوام کو قتل کیا ".. اس "جادوئی" لمس سے پہلے اور بعد بھی بشار الاسد "جنگی مجرم" ہی رہے گا جس کو "خدائی یا انسانی عدالت" جلد یا بدیر اپنی گرفت میں لے گی۔

Sunday, July 31, 2016

ایران کی 2001ء سے "شدت پسندی" کی سپورٹ


حالیہ عرصے میں ایسی رپورٹیں منظرعام پر آئی ہیں جو تہران کو دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مربوط کرنے کے علاوہ اس بات کے کثیر شواہد بھی پیش کرتی ہیں کہ یہ تعلق 2001ء سے قائم ہے۔
مذکورہ دستاویزات اور معلومات کے ذریعے سامنے آنے والے تہران اور داعش تنظیم کے تعلق نے اس حوالے سے پھیلی پہیلیوں کا بھی خاتمہ کردیا ہے۔
دستاویزات سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ تہران اور داعش کے درمیان تعلق ابتدا میں سابق کمانڈر ابو مصعب الزرقاوی کی صورت میں تھا۔ یہ تعلق افغان لیڈر گلبدین حکمت یار کی وساطت سے قائم ہوا تھا ، بعد ازاں حکمت یار تہران کے مخالف بن گئے تھے۔
معلومات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ الزرقاوی عراق میں داخل ہونے کی تیاری کے سلسلے میں ایران فرار ہوگیا تھا۔
امریکی جریدے "اٹلانٹک" کی رپورٹ میں ابو مصعب الزرقاوی کے ایران میں قیام کا انکشاف کیا گیا ہے جو 2001 میں افغانستان سے ایران پہنچا تھا اور پھر وہاں 14 ماہ قیام کیا۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ الزرقاوی کو سپورٹ کرنے کی ایران کے پاس بہت سی وجوہات تھیں۔ ان میں اہم ترین وجہ عراق پر کنٹرول کی ایرانی خواہش تھی اور اس کے لیے عراق کو غیرمستحکم رکھنا ضروری تھا۔
امریکی خارجہ تعلقات کونسل کی رپورٹ میں بھی اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ ایران نے داعش کے وجود کو استعمال کیا تاکہ وہ مشرق وسطی میں اپنی طاقت کو مضبوط کرسکے۔ اس نے داعش کے خلاف جنگ کے سلسلے میں عراق اور شام میں خود سے ہی حلیف تیار کیے۔ اس طرح ایران کو دونوں ملکوں میں اپنی موجودگی بڑھانے کا بہانہ مل گیا۔ اسی دوران اس نے داعش کے خلاف برسرجنگ ہونے اور ایرانی نمائندگی کو پھیلانے کے لیے اپنے زیرانتظام مسلح تنظیمیں تشکیل دیں۔
ادھر داعش کے نمودار ہونے کے بعد سے امریکی میڈیا کی اور دیگر متعدد تجزیاتی رپورٹوں میں یہ غالب گمان ظاہر کیا گیا ہے کہ ایران داعش کے خطرے سے فائدہ اٹھا رہا ہے تاکہ امریکا کے لیے پسندیدہ حلیف کی صورت میں ظاہر ہوسکے۔

پورن اسٹار کے ایران کے دورے نے طوفان کھڑا کر دیا


فحش فلموں کی برطانوی اداکارہ "Candy Charms" کے اس انکشاف نے کہ انہوں نے اپنی ناک کی کاسمیٹک سرجری کے لیے "اسلامی جمہوریہ ایران" کا دورہ کیا، ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ کینڈی نے انسٹاگرام پر ایک تصویر بھی پوسٹ کی ہے جس میں انہوں ایرانی خواتین کی طرح بالوں کو ڈھانپ رکھا ہے۔
برطانوی اداکارہ نے اپنی تصویر کے (جو لگتا ہے کہ گاڑی میں لی گئی ہے) ایک جانب تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے چھٹیاں گزارنے کے لیے ایران کا سفر کیا اور ساتھ ہی اپنے فالوورز سے ان کے تبصروں کا جواب نہ دے پانے پر معذرت بھی کی کیوں کہ ایران میں سماجی رابطے کی ویب سائٹس بلاک ہیں۔
کینڈی چارمز جن کی عمر 27 برس ہے امریکا میں رہتی ہیں۔ انہوں نے چار سال قبل فحش فلموں کی اداکارہ کے طور پر کام شروع کیا۔
کینڈی چارمز نے اپنے پیج پر اس شخصیت کا شکریہ ادا کیا جس نے ایرانی سرزمین میں داخل ہونے کے لیے ویزے کے حصول میں ان کی مدد کی۔ کینڈی نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ایرانی سفارت خانہ ان کے کام کی نوعیت جانتا ہے یا نہیں تاہم کینڈی نے باور کرایا کہ ان کے اہل خانہ اور قریبی دوستوں کے سوا تہران کے دورے کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں تھا۔
فحش فلموں کی اداکارہ کو یہ نہیں معلوم تھا کہ محض ایران کے دورے کا ذکر کرنے سے ہی نہ صرف ایرانیوں بلکہ دنیا بھر میں کینڈی کے فالوورز کے درمیان ایک طوفان کھڑا ہوجائے گا۔ کینڈی کی تصویر پوسٹ ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی 40 ہزار افراد نے اس پر تبصرہ کیا۔
ایرانیوں نے سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل جانے والی اس خبر کا فائدہ اٹھایا۔ معاملہ سوشل میڈیا تک ہی محدود نہ رہا بلکہ فارسی زبان کے ایرانی اور غیرملکی میڈیا میں بھی فحش فلموں کی اداکارہ کے دورہ ایران کی خبر گردش میں رہی۔
اپنے ابتدائی تبصرے میں کینڈی چارمز نے صرف یہ بتایا تھا کہ وہ تہران میں چھٹیاں گزارنے کے لیے تھیں تاہم جلد ہی انہوں نے اپنے ایک دوست کے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی ناک کی کاسمیٹک سرجری کے لیے تہران گئی تھیں کیوں کہ بقول کینڈی ناک کی کاسمیٹک سرجری کے لیے ایران بہترین ملک ہے۔
بعض فالوورز نے ڈاکٹر امیر حسین ناصری کا نام لے کر کہا ہے کہ انہوں نے کینڈی چارمز کی سرجری کی۔ اس کے نتیجے میں ناصری انسٹاگرام پر اپنا پیج بند کرنے پر مجبور ہوگئے تاکہ سوشل میڈیا کے کارکنان کے دھاوے سے بچ سکیں۔
چارمز کے دورہ تہران کی وجہ سامنے آنے کے بعد بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایران کے مذہبی حکام کو فحش فلموں کی اداکارہ کے دورے کے بارے میں معلوم نہ ہو؟ بالخصوص جب کہ کینڈی نے اپنے اس ساتھی کا شکریہ بھی ادا کیا جس نے "اسلامی جمہوریہ ایران" کے سفارت خانے سے ویزا دلوانے میں فحش فلمون کی اداکارہ کی مدد کی۔
وہ بھی ایسے وقت میں جب کہ ایرانی حکام نے انسانی حقوق کے کارکنان اور غیرملکی صحافیوں کو ایران کے سفر کے لیے ویزا دینے میں سخت گیری اختیار کر رکھی ہے

Saturday, July 30, 2016

ایک جوان کی سنسی خیز انکشافات

ایڈز اور قادیانیت
٭ ایک بگڑے ہوئے نوجوان کی آپ بیتی، سنسنی خیز انکشافات کے ساتھ ٭
یہ جولائی 2007ء کی بات ہے۔ لاہور کا ایک خوبرو نوجوان شہزاد ملک کے ایک مشہور و معروف قومی اخبار کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اخبار کے ورق الٹتے ہوئے اچانک اس کی نظر کلاسیفائیڈ اشتہارات پر پڑی۔ پھر ان میں سے ایک اشتہار پر اس کی نگاہیں گڑ کر رہ گئیں:"دوستیاں کیجئے۔۔۔۔کامیاب بنیے" اشتہار میں بتایا گیا تھا کہ ہر نوجوان دیے گئے رابطہ نمبروں پر کال کر کے نئے دوست تلاش کر سکتا ہے۔جو لڑکے بھی ہوسکتے ہیں اور لڑکیاں بھی۔۔۔۔۔ یہ نئے تعلقات اس کی زندگی میں نئی جان ڈال دیںگے۔
شہزاد ان دنوں ویسے بھی فارغ تھا۔اس کی زندگی بے مزہ گزر رہی تھی۔ایسے اشتہارات اس نے پہلے بھی دیکھے تھے مگر اب اس نے پہلی بار انہیں آزمانے کا ارادہ کیا۔اس نے اشتہار میں دیے گئے نمبروں پر رابطہ کیا۔اس رابطے کے نتیجے میں اسے کئی لڑکوں اور لڑکیوں کا تعارف کرایا گیا۔ ان کے فون نمبرز دیے گئے۔ شہزاد نے ان میں سے ایک لڑکی"روحی"کو دوستی کے لیے منتخب کیا اور اس کے نمبر پر کال کی۔دونوں میں ہیلو ہائے ہوئی۔ پھر باقاعدہ ملاقات کے لیے جگہ کا تعین ہوا۔لڑکی نے خود بتایا کہ وہ لاہور کے فلاں جوس سینٹر میں مل سکتی ہے۔
شہزاد وہاں پہنچ گیا۔ اس طرح روحی سے اس کی پہلی ملاقات ہوئی۔اس ملاقات نے اسے ایک نئی دنیا کی سیر کرائی۔ عیش و عیاشی کی دنیا ، رنگ رلیوں کی دنیا ، جہاں شرم و حیا نامی کوئی شے نہیں ہوتی۔روحی اس دنیا میں داخلے کا دروازہ تھی۔ آگے لڑکیوں کی ایک لمبی قطار تھی۔ شہزاد کی دوستیاں بڑھتی چلی گئیں۔ اسے ہوش تب آیا جب اسے جسم میں شدید توڑ پھوڑ کا احساس ہوا۔ اس نے ڈاکٹروں سے معائنہ کروایا تو پتا چلا کہ وہ ایڈز کا مریض بن چکا ہے۔ شہزاد کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ اپنا علاج کراتا۔ تب انہیں گروہ کے سرکردہ افراد نے علاج کی پیش کش کی مگر شرط یہ تھی کہ وہ ان کے گروہ کے لیے کام کرے۔ شہزاد کو موت سامنے نظر آرہی تھی۔ وہ ہر خطرناک سے خطرناک اور ناجائز سے ناجائز کام کے لیے تیار ہوگیا۔ ویسے بھی حلال و حرام کا فرق تو وہ کب کا بھول چکا تھا۔ گروہ کے منتظمین خود سات پردوں میں تھے۔ وہ شہزاد کو اپنی لڑکیوں کے ذریعے مختلف کام بتاتے تھے۔ یہ کام عجیب و غریب تھے۔ شہزاد ایک پڑھا لکھا اور ذہین نوجوان تھا۔جلد ہی وہ گروہ کے کاموں کو خاصی حد تک سمجھ گیا۔ گروہ کے منصوبے آہستہ آہستہ اس پر عیاں ہونے لگے۔ یہ منصوبے بے حد خوفناک تھے۔ یہ گروہ ملک میں ایڈز کا وائرس پھیلا رہا تھا۔ ہیپاٹائٹس سی کی بیماری کو فروغ دے رہا تھا۔ ہزاروں افراد اس کا نشانہ بن چکے تھے۔ آزاد خیال نوجوان ، ہسپتالوں کے مریض اور جیلوں کے قیدی اس کا خاص ہدف تھے۔ آزاد خیال نوجوانوں کو دوستی کے اشتہارات کے ذریعے پھنسایا جاتا تھا۔ یہ اشتہارات میڈیا میں مختلف عنوانات سے آرہے تھے۔ ان کے ذریعے نوجوانوں کا تعلق جن لڑکیوں سے ہوتا تھا وہ ایڈز اور دوسری مہلک بیماری میں مبتلا تھیں۔ ان سراپا بیمار عورتوں کو مختلف این جی اوز سے اکٹھا کیا گیا تھا۔ ان عورتوں کی بیماری اس درجے کی تھی کہ ان کے ساتھ اختلاط سے بھی انسان ایڈز میں مبتلا ہو سکتا تھا، مگر گروہ کے لوگ اس پر اکتفا نہیں کرتے تھے۔ان کا انتظام اتنا پختہ تھا کہ لڑکی سے پہلی ملاقات کے وقت نوجوان جو مشروب (جوس، کولڈ ڈرنک یا شراب) پیتا تھا، اس میں پہلے سے خطرناک جراثیم ملا دیے جاتے تھے۔ ایڈز کی کئی مریضائیں معقول علاج ، بہتر معاوضے اور عیش و عشرت کی چند گھڑیوں کے عوض اس گروہ کے لیے یہ کام کرتی تھیں ، جبکہ بہت سی عورتیں مجبور ہو کر یہ کام کر رہی تھیں کیونکہ ان کے بچے اس گروہ کے قبضے میں تھے۔ ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ احکام کی تعمیل کرتی رہیں، ایڈز پھیلاتی رہیں تو ان کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا کر ان کا مستقبل شاندار بنا دیا جائے گا۔
ان بے فکرے نوجوانوں کے علاوہ ہسپتالوں ، پاگل خانوں اور جیل خانوں کے مریض ان کا دوسرا ہدف تھے۔ یہ گروہ پاکستان کے طول و عرض میں ایسی لاکھوں سرنجیں پھیلا رہا تھا جو ایڈز یا ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کے خون سے آلودہ ہوتی تھیں۔ کئی بڑے ہسپتالوں میں اس گروہ کے ایجنٹ موجود تھے۔ وہاں آنے والی سرنجوں میں یہ ایڈز اور ہیپا ٹائٹس زدہ سرنجیں ایک مخصوص تناسب سے ملی ہوتی تھیں۔ اتنی سرنجوں کو آلودہ کرنے کے لیے گروہ نے پاگل خانوں میں سرگرم اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاگل افراد کو اپنا نشانہ بنایا ہوا تھا۔ ان کو ایڈز یا ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا کرنے کے بعد ان کا خون بڑی مقدار میں نکالتے رہنے کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔
گروہ کا تیسرا ہدف جیل کے قیدی تھے۔ ان میں سے کم مدت کی سزا پانے والے حد درجے منفی اور لادینی ذہنیت رکھنے والے قیدیوں کو خاص تجزیے کے بعد منتخب کرکے علاج کے بہانے ایڈز زدہ کر دیا جاتا تھا۔ جب یہ قیدی رہا ہوئے تو بیماری کے باعث ان کا کوئی مستقبل نہ ہوتا تھا۔یہ گروہ ان سے رابطہ کر کے انہیں اپنا رضاکار بنا لیتا تھا۔ یہ قیدی ویسے ہی تخریبی ذہن کے ہوتے تھے ۔ اپنی محرومیوں کا دنیا سے بدلہ لینے کےلیے وہ ایڈز پھیلانے پر آمادہ ہو جاتے تھے۔انہیں کانوں کان یہ معلوم نہ ہوتا تھا کہ انہیں ایڈز میں مبتلا کرنے والے "مہربان" یہی ہیں۔
گروہ کا ایک خاص کام دوسرے لوگوں کی اسناد کو اپنے کارکنوں کے لیے استعمال کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے اخبارات میں تبدیلی نام اور ولدیت کے اشتہارات شائع کردیے جاتے۔ گروہ کے کسی کارکن کو کسی ملازمت کے لیے جو مطلوبہ سند درکار ہوتی ، اس کا انتظام اس طرح ہوتا تھا کہ پہلے کمپیوٹر پر اپنے کارکن کی ولدیت سے ملتے جلتے نام والی ولدیت سرچ کی جاتی۔مثلاً: ظفر ولد جمیل کو کہیں بھرتی کرانا ہوتا تو نیٹ سے جمیل نام کی ولدیت رکھنے والے افراد کی فہرست حاصل کر لی جاتی۔پھر ظفر کا تبدیلئ نام کا اشتہار شائع کرا کے تبدیل کردیا جاتا۔اس طریقے سے گروہ کے ان گنت افراد کو ڈپلی کیٹ اسناد دلوا کر پولیس ، خفیہ ایجنسیوں اور فوج میں بھرتی کیا جا رہا تھا۔جیل خانوں ، ہسپتالوں اور پاگل خانوں میں بھی ان کی خاصی تعداد پہنچا دی گئی تھی۔
گروہ کی آمدن کے کئی ذرائع تھے۔ شہزاد کو اتنا معلوم ہوسکا کہ بڑی گرانٹ اسے باہر سے ملتی ہے۔ دیگر ذرائع خفیہ تھے۔ البتہ ایک ذریعہ آمدن بہت واضع تھا۔ وہ ایڈز اور دوسرے مہلک امراض کی ادویہ کی تجارت کا۔ ایک طرف تو خود یہ گروہ ان امراض کو پھیلا رہا تھا اور دوسری طرف ان کی ادویات منہ مانگے داموں فروخت کر کے بے تحاشہ دولت کما رہا تھا۔
ایک مدت تک شہزاد بھی اپنا دین و ایمان بھول کر اس گروہ کے لیے کام کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ان کے قابل اعتماد کارکنوں میں شامل ہو گیا۔ تب ایک دن گروہ کے سرکردہ افراد نے اسے طلب کیا اور حیرت انگیز حد تک پرکشش مراعات کی پیش کش کی مگر ساتھ ہی ایک غیر متوقع مطالبہ بھی کیا۔
"تم قادیانی بن جاؤ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو آخری نبی مان لو "شہزاد ہکا بکا رہ گیا۔ آج اسے معلوم ہوا کہ یہ گروہ قادیانی ہے۔ اس نے سوچنے کی مہلت طلب کی اور اس کے بعد مزید کھوج میں لگ گیا۔ اس جستجو میں گروہ کی ایک پرانی کارکن"روبینہ"نے اس کی مدد کی۔ روبینہ نے جو انکشافات کیے وہ شہزاد کےلیے کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہیں تھے۔ اس نے بتایا:"بلاشبہ یہ قادیانی گروہ ہے مگر اکیلا نہیں۔ یہ ایک بیرونی خفیہ ایجنسی کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے۔ یہ کام ایک وسیع جنگ کے تناظر میں ہو رہا ہے۔ اسے ہم حیاتیاتی جنگ کہہ سکتے ہیں"
قارئین ! شہزاد کی یہ سچی کہانی پڑھ کر میں لرز گیا ہوں۔ میں اس پر یقین نہ کرتا شاید آپ بھی اسے سچ ماننے میں متذبذب ہوں۔ کیونکہ یہ بات حلق سے اُترنا واقعی مشکل ہے کہ آیا کوئی گروہ بلا تفریق لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں کو اس طرح خفیہ انداز میں قتل کرنا کیوں چاہے گا؟امریکا کی جنگ تو مجاہدین سے ہے۔ قادیانیوں کی لڑائی تو علماء اور ختمِ نبوت والوں سے ہے۔ انہیں عوام کے اس قتلِ عام سے کیا حاصل ہوگا؟شہزاد کی کہانی میں اس کا جواب نہیں ملتا، مگر اس کا جواب خود یورپی میڈیا پر آنے والی رپورٹوں سے مل سکتا ہے۔ ان رپورٹوں کے مطابق اس وقت یورپ اور امریکا میں انسانی آبادی تیزی سے نمٹنے کا خطرہ واضح طور پر محسوس ہو رہا ہے۔ وہاں کے"فری سیکس"معاشرے میں اب کوئی عورت ماں بننا چاہتی ہے نہ کوئی مرد باپ۔ تقریباً ہر فرد کا یہ ذہن بن چکا ہے جب جنسی تسکین کے لیے آزاد راستے موجود ہیں تو شادی کا بندھن اور بچوں کا جھنجھٹ سر کیوں لیا جائے؟ اس بظاہر پُر فریب خیال کے پیچھے اجتماعی خود کشی کا طوفان چلا آرہا ہے۔ جس قوم کے اکثر لوگ بچے پیدا نہ کرنا چاہتے ہوں۔ وہاں شرح پیدائش کیوں کم نہ ہوگی؟چنانچہ وہاں اب آبادی تیزی سے نمٹنے لگی ہے۔سابق امریکی صدارتی اُمیدوار پیٹرک جے بچا چن نے واضح طور پر لکھا ہے:"2050ء تک یورپ سے دس کروڑ افراد صرف اس لیے کم ہوجائیں گے کہ متبادل نئی نسل پیدا نہیں ہوگی۔"اس نے لکھا ہے:"2050ء تک جرمنی کی آبادی8 کروڑ سے گھٹ کر 5 کروڑ 90 لاکھ رہ جائے گی۔ اٹلی کی آبادی 5کروڑ سے کم ہو کر صرف 4 کروڑ رہ جائے گی۔ اسپین کی آبادی میں 25 فیصد کمی ہو جائے گی۔"
یہ وہ صورتِ حال ہے جس سے گھبرا کر مغربی دنیا کی حکومتیں عوام کی افزائش نسل کی ترغیبات دینے پر مجبور ہو گئی ہیں مگر کتے بلیوں کی طرح آزادانہ جنسی ملاپ کے عادی گورے اب کسی بھی قیمت پر یہ آزادی کھونا نہیں چاہتے۔ کوئی بڑے سے بڑا انعام انہیں بچے پالنے کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں بنا سکتا۔ یہ بات درجہ یقین کو پہنچ گئی ہے کہ اس صورتِ حال کا تدارک نہ ہونے کے باعث 50، 60 سال بعد دنیا میں عیسائی اقلیت میں رہ جائیں گے اور کرۂ ارض پر 60 سے 65 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہوگی جو اپنی نسل مسلسل بڑھا رہے ہیں۔ خود یورپی ممالک میں کئی بڑے بڑے شہروں میں مسلم آبادی 50 فیصد کے لگ بھگ آجائے گی۔ اس صورتِ حال میں مغربی طاقتوں نے اپنے ہاں افزائش نسل سے زیادہ توجہ مسلم دنیا کی نسل کشی پر دینا شروع کر دی ہے۔ پاکستان کو اس مقصد کے لیے پہلا ہدف اس لیے بنایا گیا ہے کہ یہ مسلم دنیا میں آبادی کے لحاظ سے تین بڑے ملکوں میں سے ایک ہے۔ پھر یہاں کی آبادی اپنی اسلام پسندی ، علماء و مدارس کی کثرت اور جہادی پس منظر کی وجہ سے پہلے ہی مغرب کا خاص ہدف ہے۔ اس کے علاوہ یہاں مغرب کے مددگار قادیانیوں کا مضبوط نیٹ ورک ہے۔ چنانچہ یہودی لابی اس مقصد کے لیے متحرک ہوگئی ہے۔ اس کے لیے پاکستان کے قادیانی اس کے شریک کاربن گئے ہیں۔ شہزاد جیسے ہزاروں لڑکے اور روحی جیسی ہزاروں لڑکیاں ان کے چنگل میں ہیں۔ اپنے ایڈز زدہ جسموں کےساتھ وہ طوعاً و کرہاً ان کے لیےکام کر رہے ہیں۔
شہزاد کے بیان کے مطابق قادیانی گروہ ایک بیرونی خفیہ ایجنسی کے اس تعاون کو پاکستان کے سیکیورٹی اہداف کے خلاف بھی استعمال کر رہا ہے۔ جراثیم زدہ لڑکیوں کا نیٹ ورک ملٹری فورسز اور دوسرے خفیہ اداروں کے محب وطن افراد تک پھیلانے کی کوششیں پوری سرگرمی سے جاری ہیں۔جن کا نوٹس لینا ضروری ہے۔
مجھے یہ حساس ترین معلومات دیتے ہوئے شہزاد نے واضح طور پر آگاہ کیا کہ اسے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ قادیانیوں نے اسے مرزا پر ایمان لانے کی پیشکش کر کے اس کی سوئی ہوئی ایمانی غیرت کو جھنجھوڑ دیا تھا۔ شہزاد نے ان کی پیش کش ان کے منہ پردے ماری اور اس گروہ کی جڑوں کو کھود کر ان کا کچا چٹھا صحافی برادری تک پہنچا دیا۔ شہزاد اپنا کام کرچکا ، اب اس کاجو بھی انجام ہو وہ بھگتنے کے لیے تیار ہے۔ میں اپنا فرض سمجھتے ہوئے یہ حقائق آپ تک پہنچا رہا ہوں۔
ہم چیف جسٹس ، چیف آف آرمی اسٹاف اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے بطور خاص گزارش کرتے ہیں کہ اس بارے میں تحقیقات کرکے پاکستانیوں کی نسل کشی کے اس خوفناک منصوبے کو ناکام بنائیں۔ ورنہ مستقبل میں جہاں آبادی سے محروم یورپ و امریکا خودکشی کریں گے وہاں پاکستان بھی لق و دق صحرا بن کر اپنی پہچان سے محروم ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس برے وقت سے پہلے ہمیں سنبھلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ دوستو سے گزارش ہے کہ اخبارات اور چینلوں پر آنے والے دوستی کے اشتہارات پر نظر رکھیں اور ان کے خطرات سے اپنے متعلقہ احباب کو خبردار کریں۔"
(بحوالہ: دجال، عالمی دجالی ریاست، ابتدا سے انتہا تک)

آج کی حکایت


⬅🖊آج کی حکایت🖊➡
🌺ایک شخص گھوڑے پر سوار کہیں جا رھا تھا راستے میں اسے ایک شخص ملا جس نے دریافت کیا کہ بوریوں میں کیا ھے؟ سوار نے جواب دیا کہ ایک بوری میں گندم اور دوسری میں وزن برابر کرنے کے لئے ریت بھری ھے.
اس شخص نے کہا اگر گندم کو ھی دونوں طرف تقسیم کر کے ھم وزن لادا جاتا تواس قدر زائد وزن سے گھوڑے کو اور اس قدر  غیر ضروری محنت سے آپ کو نجات مل جاتی.
سوار نے کہا_واقعی یہ تدبیر تم نے بھت اچھی بتائی. لیکن یہ تو فرمائیے کہ اس قدر عقل کی موجودگی میں آپ پیدل کیوں جا رھے ھیں، اس شخص نے کہا. یہ اپنی اپنی قسمت ھے. سوار نے کہا ایسی عقل کو اپنے پاس ھی رکھیے جو آپ کو پیدل چلا رھی ھے کہیں اسکا سایہ مجھ پر نہ پڑ جاے. مجھ کو میری بےوقوفی مبارک ھے جس نے مجھے گھوڑے پر سوار کر رکھا ھے.
💐💐💐نتیجہ💐💐💐
خوش قسمتی کا عقل سے کوی تعلق نھیں....