The Daily Mail Urdu

Sunday, July 31, 2016

پورن اسٹار کے ایران کے دورے نے طوفان کھڑا کر دیا


فحش فلموں کی برطانوی اداکارہ "Candy Charms" کے اس انکشاف نے کہ انہوں نے اپنی ناک کی کاسمیٹک سرجری کے لیے "اسلامی جمہوریہ ایران" کا دورہ کیا، ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ کینڈی نے انسٹاگرام پر ایک تصویر بھی پوسٹ کی ہے جس میں انہوں ایرانی خواتین کی طرح بالوں کو ڈھانپ رکھا ہے۔
برطانوی اداکارہ نے اپنی تصویر کے (جو لگتا ہے کہ گاڑی میں لی گئی ہے) ایک جانب تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے چھٹیاں گزارنے کے لیے ایران کا سفر کیا اور ساتھ ہی اپنے فالوورز سے ان کے تبصروں کا جواب نہ دے پانے پر معذرت بھی کی کیوں کہ ایران میں سماجی رابطے کی ویب سائٹس بلاک ہیں۔
کینڈی چارمز جن کی عمر 27 برس ہے امریکا میں رہتی ہیں۔ انہوں نے چار سال قبل فحش فلموں کی اداکارہ کے طور پر کام شروع کیا۔
کینڈی چارمز نے اپنے پیج پر اس شخصیت کا شکریہ ادا کیا جس نے ایرانی سرزمین میں داخل ہونے کے لیے ویزے کے حصول میں ان کی مدد کی۔ کینڈی نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ایرانی سفارت خانہ ان کے کام کی نوعیت جانتا ہے یا نہیں تاہم کینڈی نے باور کرایا کہ ان کے اہل خانہ اور قریبی دوستوں کے سوا تہران کے دورے کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں تھا۔
فحش فلموں کی اداکارہ کو یہ نہیں معلوم تھا کہ محض ایران کے دورے کا ذکر کرنے سے ہی نہ صرف ایرانیوں بلکہ دنیا بھر میں کینڈی کے فالوورز کے درمیان ایک طوفان کھڑا ہوجائے گا۔ کینڈی کی تصویر پوسٹ ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی 40 ہزار افراد نے اس پر تبصرہ کیا۔
ایرانیوں نے سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل جانے والی اس خبر کا فائدہ اٹھایا۔ معاملہ سوشل میڈیا تک ہی محدود نہ رہا بلکہ فارسی زبان کے ایرانی اور غیرملکی میڈیا میں بھی فحش فلموں کی اداکارہ کے دورہ ایران کی خبر گردش میں رہی۔
اپنے ابتدائی تبصرے میں کینڈی چارمز نے صرف یہ بتایا تھا کہ وہ تہران میں چھٹیاں گزارنے کے لیے تھیں تاہم جلد ہی انہوں نے اپنے ایک دوست کے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی ناک کی کاسمیٹک سرجری کے لیے تہران گئی تھیں کیوں کہ بقول کینڈی ناک کی کاسمیٹک سرجری کے لیے ایران بہترین ملک ہے۔
بعض فالوورز نے ڈاکٹر امیر حسین ناصری کا نام لے کر کہا ہے کہ انہوں نے کینڈی چارمز کی سرجری کی۔ اس کے نتیجے میں ناصری انسٹاگرام پر اپنا پیج بند کرنے پر مجبور ہوگئے تاکہ سوشل میڈیا کے کارکنان کے دھاوے سے بچ سکیں۔
چارمز کے دورہ تہران کی وجہ سامنے آنے کے بعد بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایران کے مذہبی حکام کو فحش فلموں کی اداکارہ کے دورے کے بارے میں معلوم نہ ہو؟ بالخصوص جب کہ کینڈی نے اپنے اس ساتھی کا شکریہ بھی ادا کیا جس نے "اسلامی جمہوریہ ایران" کے سفارت خانے سے ویزا دلوانے میں فحش فلمون کی اداکارہ کی مدد کی۔
وہ بھی ایسے وقت میں جب کہ ایرانی حکام نے انسانی حقوق کے کارکنان اور غیرملکی صحافیوں کو ایران کے سفر کے لیے ویزا دینے میں سخت گیری اختیار کر رکھی ہے

Saturday, July 30, 2016

ایک جوان کی سنسی خیز انکشافات

ایڈز اور قادیانیت
٭ ایک بگڑے ہوئے نوجوان کی آپ بیتی، سنسنی خیز انکشافات کے ساتھ ٭
یہ جولائی 2007ء کی بات ہے۔ لاہور کا ایک خوبرو نوجوان شہزاد ملک کے ایک مشہور و معروف قومی اخبار کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اخبار کے ورق الٹتے ہوئے اچانک اس کی نظر کلاسیفائیڈ اشتہارات پر پڑی۔ پھر ان میں سے ایک اشتہار پر اس کی نگاہیں گڑ کر رہ گئیں:"دوستیاں کیجئے۔۔۔۔کامیاب بنیے" اشتہار میں بتایا گیا تھا کہ ہر نوجوان دیے گئے رابطہ نمبروں پر کال کر کے نئے دوست تلاش کر سکتا ہے۔جو لڑکے بھی ہوسکتے ہیں اور لڑکیاں بھی۔۔۔۔۔ یہ نئے تعلقات اس کی زندگی میں نئی جان ڈال دیںگے۔
شہزاد ان دنوں ویسے بھی فارغ تھا۔اس کی زندگی بے مزہ گزر رہی تھی۔ایسے اشتہارات اس نے پہلے بھی دیکھے تھے مگر اب اس نے پہلی بار انہیں آزمانے کا ارادہ کیا۔اس نے اشتہار میں دیے گئے نمبروں پر رابطہ کیا۔اس رابطے کے نتیجے میں اسے کئی لڑکوں اور لڑکیوں کا تعارف کرایا گیا۔ ان کے فون نمبرز دیے گئے۔ شہزاد نے ان میں سے ایک لڑکی"روحی"کو دوستی کے لیے منتخب کیا اور اس کے نمبر پر کال کی۔دونوں میں ہیلو ہائے ہوئی۔ پھر باقاعدہ ملاقات کے لیے جگہ کا تعین ہوا۔لڑکی نے خود بتایا کہ وہ لاہور کے فلاں جوس سینٹر میں مل سکتی ہے۔
شہزاد وہاں پہنچ گیا۔ اس طرح روحی سے اس کی پہلی ملاقات ہوئی۔اس ملاقات نے اسے ایک نئی دنیا کی سیر کرائی۔ عیش و عیاشی کی دنیا ، رنگ رلیوں کی دنیا ، جہاں شرم و حیا نامی کوئی شے نہیں ہوتی۔روحی اس دنیا میں داخلے کا دروازہ تھی۔ آگے لڑکیوں کی ایک لمبی قطار تھی۔ شہزاد کی دوستیاں بڑھتی چلی گئیں۔ اسے ہوش تب آیا جب اسے جسم میں شدید توڑ پھوڑ کا احساس ہوا۔ اس نے ڈاکٹروں سے معائنہ کروایا تو پتا چلا کہ وہ ایڈز کا مریض بن چکا ہے۔ شہزاد کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ اپنا علاج کراتا۔ تب انہیں گروہ کے سرکردہ افراد نے علاج کی پیش کش کی مگر شرط یہ تھی کہ وہ ان کے گروہ کے لیے کام کرے۔ شہزاد کو موت سامنے نظر آرہی تھی۔ وہ ہر خطرناک سے خطرناک اور ناجائز سے ناجائز کام کے لیے تیار ہوگیا۔ ویسے بھی حلال و حرام کا فرق تو وہ کب کا بھول چکا تھا۔ گروہ کے منتظمین خود سات پردوں میں تھے۔ وہ شہزاد کو اپنی لڑکیوں کے ذریعے مختلف کام بتاتے تھے۔ یہ کام عجیب و غریب تھے۔ شہزاد ایک پڑھا لکھا اور ذہین نوجوان تھا۔جلد ہی وہ گروہ کے کاموں کو خاصی حد تک سمجھ گیا۔ گروہ کے منصوبے آہستہ آہستہ اس پر عیاں ہونے لگے۔ یہ منصوبے بے حد خوفناک تھے۔ یہ گروہ ملک میں ایڈز کا وائرس پھیلا رہا تھا۔ ہیپاٹائٹس سی کی بیماری کو فروغ دے رہا تھا۔ ہزاروں افراد اس کا نشانہ بن چکے تھے۔ آزاد خیال نوجوان ، ہسپتالوں کے مریض اور جیلوں کے قیدی اس کا خاص ہدف تھے۔ آزاد خیال نوجوانوں کو دوستی کے اشتہارات کے ذریعے پھنسایا جاتا تھا۔ یہ اشتہارات میڈیا میں مختلف عنوانات سے آرہے تھے۔ ان کے ذریعے نوجوانوں کا تعلق جن لڑکیوں سے ہوتا تھا وہ ایڈز اور دوسری مہلک بیماری میں مبتلا تھیں۔ ان سراپا بیمار عورتوں کو مختلف این جی اوز سے اکٹھا کیا گیا تھا۔ ان عورتوں کی بیماری اس درجے کی تھی کہ ان کے ساتھ اختلاط سے بھی انسان ایڈز میں مبتلا ہو سکتا تھا، مگر گروہ کے لوگ اس پر اکتفا نہیں کرتے تھے۔ان کا انتظام اتنا پختہ تھا کہ لڑکی سے پہلی ملاقات کے وقت نوجوان جو مشروب (جوس، کولڈ ڈرنک یا شراب) پیتا تھا، اس میں پہلے سے خطرناک جراثیم ملا دیے جاتے تھے۔ ایڈز کی کئی مریضائیں معقول علاج ، بہتر معاوضے اور عیش و عشرت کی چند گھڑیوں کے عوض اس گروہ کے لیے یہ کام کرتی تھیں ، جبکہ بہت سی عورتیں مجبور ہو کر یہ کام کر رہی تھیں کیونکہ ان کے بچے اس گروہ کے قبضے میں تھے۔ ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ احکام کی تعمیل کرتی رہیں، ایڈز پھیلاتی رہیں تو ان کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا کر ان کا مستقبل شاندار بنا دیا جائے گا۔
ان بے فکرے نوجوانوں کے علاوہ ہسپتالوں ، پاگل خانوں اور جیل خانوں کے مریض ان کا دوسرا ہدف تھے۔ یہ گروہ پاکستان کے طول و عرض میں ایسی لاکھوں سرنجیں پھیلا رہا تھا جو ایڈز یا ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کے خون سے آلودہ ہوتی تھیں۔ کئی بڑے ہسپتالوں میں اس گروہ کے ایجنٹ موجود تھے۔ وہاں آنے والی سرنجوں میں یہ ایڈز اور ہیپا ٹائٹس زدہ سرنجیں ایک مخصوص تناسب سے ملی ہوتی تھیں۔ اتنی سرنجوں کو آلودہ کرنے کے لیے گروہ نے پاگل خانوں میں سرگرم اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاگل افراد کو اپنا نشانہ بنایا ہوا تھا۔ ان کو ایڈز یا ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا کرنے کے بعد ان کا خون بڑی مقدار میں نکالتے رہنے کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔
گروہ کا تیسرا ہدف جیل کے قیدی تھے۔ ان میں سے کم مدت کی سزا پانے والے حد درجے منفی اور لادینی ذہنیت رکھنے والے قیدیوں کو خاص تجزیے کے بعد منتخب کرکے علاج کے بہانے ایڈز زدہ کر دیا جاتا تھا۔ جب یہ قیدی رہا ہوئے تو بیماری کے باعث ان کا کوئی مستقبل نہ ہوتا تھا۔یہ گروہ ان سے رابطہ کر کے انہیں اپنا رضاکار بنا لیتا تھا۔ یہ قیدی ویسے ہی تخریبی ذہن کے ہوتے تھے ۔ اپنی محرومیوں کا دنیا سے بدلہ لینے کےلیے وہ ایڈز پھیلانے پر آمادہ ہو جاتے تھے۔انہیں کانوں کان یہ معلوم نہ ہوتا تھا کہ انہیں ایڈز میں مبتلا کرنے والے "مہربان" یہی ہیں۔
گروہ کا ایک خاص کام دوسرے لوگوں کی اسناد کو اپنے کارکنوں کے لیے استعمال کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے اخبارات میں تبدیلی نام اور ولدیت کے اشتہارات شائع کردیے جاتے۔ گروہ کے کسی کارکن کو کسی ملازمت کے لیے جو مطلوبہ سند درکار ہوتی ، اس کا انتظام اس طرح ہوتا تھا کہ پہلے کمپیوٹر پر اپنے کارکن کی ولدیت سے ملتے جلتے نام والی ولدیت سرچ کی جاتی۔مثلاً: ظفر ولد جمیل کو کہیں بھرتی کرانا ہوتا تو نیٹ سے جمیل نام کی ولدیت رکھنے والے افراد کی فہرست حاصل کر لی جاتی۔پھر ظفر کا تبدیلئ نام کا اشتہار شائع کرا کے تبدیل کردیا جاتا۔اس طریقے سے گروہ کے ان گنت افراد کو ڈپلی کیٹ اسناد دلوا کر پولیس ، خفیہ ایجنسیوں اور فوج میں بھرتی کیا جا رہا تھا۔جیل خانوں ، ہسپتالوں اور پاگل خانوں میں بھی ان کی خاصی تعداد پہنچا دی گئی تھی۔
گروہ کی آمدن کے کئی ذرائع تھے۔ شہزاد کو اتنا معلوم ہوسکا کہ بڑی گرانٹ اسے باہر سے ملتی ہے۔ دیگر ذرائع خفیہ تھے۔ البتہ ایک ذریعہ آمدن بہت واضع تھا۔ وہ ایڈز اور دوسرے مہلک امراض کی ادویہ کی تجارت کا۔ ایک طرف تو خود یہ گروہ ان امراض کو پھیلا رہا تھا اور دوسری طرف ان کی ادویات منہ مانگے داموں فروخت کر کے بے تحاشہ دولت کما رہا تھا۔
ایک مدت تک شہزاد بھی اپنا دین و ایمان بھول کر اس گروہ کے لیے کام کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ان کے قابل اعتماد کارکنوں میں شامل ہو گیا۔ تب ایک دن گروہ کے سرکردہ افراد نے اسے طلب کیا اور حیرت انگیز حد تک پرکشش مراعات کی پیش کش کی مگر ساتھ ہی ایک غیر متوقع مطالبہ بھی کیا۔
"تم قادیانی بن جاؤ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو آخری نبی مان لو "شہزاد ہکا بکا رہ گیا۔ آج اسے معلوم ہوا کہ یہ گروہ قادیانی ہے۔ اس نے سوچنے کی مہلت طلب کی اور اس کے بعد مزید کھوج میں لگ گیا۔ اس جستجو میں گروہ کی ایک پرانی کارکن"روبینہ"نے اس کی مدد کی۔ روبینہ نے جو انکشافات کیے وہ شہزاد کےلیے کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہیں تھے۔ اس نے بتایا:"بلاشبہ یہ قادیانی گروہ ہے مگر اکیلا نہیں۔ یہ ایک بیرونی خفیہ ایجنسی کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے۔ یہ کام ایک وسیع جنگ کے تناظر میں ہو رہا ہے۔ اسے ہم حیاتیاتی جنگ کہہ سکتے ہیں"
قارئین ! شہزاد کی یہ سچی کہانی پڑھ کر میں لرز گیا ہوں۔ میں اس پر یقین نہ کرتا شاید آپ بھی اسے سچ ماننے میں متذبذب ہوں۔ کیونکہ یہ بات حلق سے اُترنا واقعی مشکل ہے کہ آیا کوئی گروہ بلا تفریق لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں کو اس طرح خفیہ انداز میں قتل کرنا کیوں چاہے گا؟امریکا کی جنگ تو مجاہدین سے ہے۔ قادیانیوں کی لڑائی تو علماء اور ختمِ نبوت والوں سے ہے۔ انہیں عوام کے اس قتلِ عام سے کیا حاصل ہوگا؟شہزاد کی کہانی میں اس کا جواب نہیں ملتا، مگر اس کا جواب خود یورپی میڈیا پر آنے والی رپورٹوں سے مل سکتا ہے۔ ان رپورٹوں کے مطابق اس وقت یورپ اور امریکا میں انسانی آبادی تیزی سے نمٹنے کا خطرہ واضح طور پر محسوس ہو رہا ہے۔ وہاں کے"فری سیکس"معاشرے میں اب کوئی عورت ماں بننا چاہتی ہے نہ کوئی مرد باپ۔ تقریباً ہر فرد کا یہ ذہن بن چکا ہے جب جنسی تسکین کے لیے آزاد راستے موجود ہیں تو شادی کا بندھن اور بچوں کا جھنجھٹ سر کیوں لیا جائے؟ اس بظاہر پُر فریب خیال کے پیچھے اجتماعی خود کشی کا طوفان چلا آرہا ہے۔ جس قوم کے اکثر لوگ بچے پیدا نہ کرنا چاہتے ہوں۔ وہاں شرح پیدائش کیوں کم نہ ہوگی؟چنانچہ وہاں اب آبادی تیزی سے نمٹنے لگی ہے۔سابق امریکی صدارتی اُمیدوار پیٹرک جے بچا چن نے واضح طور پر لکھا ہے:"2050ء تک یورپ سے دس کروڑ افراد صرف اس لیے کم ہوجائیں گے کہ متبادل نئی نسل پیدا نہیں ہوگی۔"اس نے لکھا ہے:"2050ء تک جرمنی کی آبادی8 کروڑ سے گھٹ کر 5 کروڑ 90 لاکھ رہ جائے گی۔ اٹلی کی آبادی 5کروڑ سے کم ہو کر صرف 4 کروڑ رہ جائے گی۔ اسپین کی آبادی میں 25 فیصد کمی ہو جائے گی۔"
یہ وہ صورتِ حال ہے جس سے گھبرا کر مغربی دنیا کی حکومتیں عوام کی افزائش نسل کی ترغیبات دینے پر مجبور ہو گئی ہیں مگر کتے بلیوں کی طرح آزادانہ جنسی ملاپ کے عادی گورے اب کسی بھی قیمت پر یہ آزادی کھونا نہیں چاہتے۔ کوئی بڑے سے بڑا انعام انہیں بچے پالنے کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں بنا سکتا۔ یہ بات درجہ یقین کو پہنچ گئی ہے کہ اس صورتِ حال کا تدارک نہ ہونے کے باعث 50، 60 سال بعد دنیا میں عیسائی اقلیت میں رہ جائیں گے اور کرۂ ارض پر 60 سے 65 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہوگی جو اپنی نسل مسلسل بڑھا رہے ہیں۔ خود یورپی ممالک میں کئی بڑے بڑے شہروں میں مسلم آبادی 50 فیصد کے لگ بھگ آجائے گی۔ اس صورتِ حال میں مغربی طاقتوں نے اپنے ہاں افزائش نسل سے زیادہ توجہ مسلم دنیا کی نسل کشی پر دینا شروع کر دی ہے۔ پاکستان کو اس مقصد کے لیے پہلا ہدف اس لیے بنایا گیا ہے کہ یہ مسلم دنیا میں آبادی کے لحاظ سے تین بڑے ملکوں میں سے ایک ہے۔ پھر یہاں کی آبادی اپنی اسلام پسندی ، علماء و مدارس کی کثرت اور جہادی پس منظر کی وجہ سے پہلے ہی مغرب کا خاص ہدف ہے۔ اس کے علاوہ یہاں مغرب کے مددگار قادیانیوں کا مضبوط نیٹ ورک ہے۔ چنانچہ یہودی لابی اس مقصد کے لیے متحرک ہوگئی ہے۔ اس کے لیے پاکستان کے قادیانی اس کے شریک کاربن گئے ہیں۔ شہزاد جیسے ہزاروں لڑکے اور روحی جیسی ہزاروں لڑکیاں ان کے چنگل میں ہیں۔ اپنے ایڈز زدہ جسموں کےساتھ وہ طوعاً و کرہاً ان کے لیےکام کر رہے ہیں۔
شہزاد کے بیان کے مطابق قادیانی گروہ ایک بیرونی خفیہ ایجنسی کے اس تعاون کو پاکستان کے سیکیورٹی اہداف کے خلاف بھی استعمال کر رہا ہے۔ جراثیم زدہ لڑکیوں کا نیٹ ورک ملٹری فورسز اور دوسرے خفیہ اداروں کے محب وطن افراد تک پھیلانے کی کوششیں پوری سرگرمی سے جاری ہیں۔جن کا نوٹس لینا ضروری ہے۔
مجھے یہ حساس ترین معلومات دیتے ہوئے شہزاد نے واضح طور پر آگاہ کیا کہ اسے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ قادیانیوں نے اسے مرزا پر ایمان لانے کی پیشکش کر کے اس کی سوئی ہوئی ایمانی غیرت کو جھنجھوڑ دیا تھا۔ شہزاد نے ان کی پیش کش ان کے منہ پردے ماری اور اس گروہ کی جڑوں کو کھود کر ان کا کچا چٹھا صحافی برادری تک پہنچا دیا۔ شہزاد اپنا کام کرچکا ، اب اس کاجو بھی انجام ہو وہ بھگتنے کے لیے تیار ہے۔ میں اپنا فرض سمجھتے ہوئے یہ حقائق آپ تک پہنچا رہا ہوں۔
ہم چیف جسٹس ، چیف آف آرمی اسٹاف اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے بطور خاص گزارش کرتے ہیں کہ اس بارے میں تحقیقات کرکے پاکستانیوں کی نسل کشی کے اس خوفناک منصوبے کو ناکام بنائیں۔ ورنہ مستقبل میں جہاں آبادی سے محروم یورپ و امریکا خودکشی کریں گے وہاں پاکستان بھی لق و دق صحرا بن کر اپنی پہچان سے محروم ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس برے وقت سے پہلے ہمیں سنبھلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ دوستو سے گزارش ہے کہ اخبارات اور چینلوں پر آنے والے دوستی کے اشتہارات پر نظر رکھیں اور ان کے خطرات سے اپنے متعلقہ احباب کو خبردار کریں۔"
(بحوالہ: دجال، عالمی دجالی ریاست، ابتدا سے انتہا تک)

آج کی حکایت


⬅🖊آج کی حکایت🖊➡
🌺ایک شخص گھوڑے پر سوار کہیں جا رھا تھا راستے میں اسے ایک شخص ملا جس نے دریافت کیا کہ بوریوں میں کیا ھے؟ سوار نے جواب دیا کہ ایک بوری میں گندم اور دوسری میں وزن برابر کرنے کے لئے ریت بھری ھے.
اس شخص نے کہا اگر گندم کو ھی دونوں طرف تقسیم کر کے ھم وزن لادا جاتا تواس قدر زائد وزن سے گھوڑے کو اور اس قدر  غیر ضروری محنت سے آپ کو نجات مل جاتی.
سوار نے کہا_واقعی یہ تدبیر تم نے بھت اچھی بتائی. لیکن یہ تو فرمائیے کہ اس قدر عقل کی موجودگی میں آپ پیدل کیوں جا رھے ھیں، اس شخص نے کہا. یہ اپنی اپنی قسمت ھے. سوار نے کہا ایسی عقل کو اپنے پاس ھی رکھیے جو آپ کو پیدل چلا رھی ھے کہیں اسکا سایہ مجھ پر نہ پڑ جاے. مجھ کو میری بےوقوفی مبارک ھے جس نے مجھے گھوڑے پر سوار کر رکھا ھے.
💐💐💐نتیجہ💐💐💐
خوش قسمتی کا عقل سے کوی تعلق نھیں....

Friday, July 29, 2016

ملک اسحاق کون تھا؟


::::: ملک اسحاق اور فرقہ وارانہ انتہاء پسندی ::::

آج 29 جولائی ہے، آج سے ٹھیک ایک سال قبل عالمی میڈیا پر ملک اسحاق کا نام گونج رہا تھا، ہفتوں تک یہی موضوع گونجتا رہا۔

ملک اسحاق وہ نام ہے جو ہر ذی شعور اور باخبر رہنے والے پاکستانی اور ایرانی کے ذہن میں گردش کرتا رہتا ہے، ملک اسحاق کون تھا؟ اور کیسے ایک نوجوان ملک اسحاق جیسا نام بن کر کیسے ابھر؟ اس کیلئے آپ کو تھوڑے سے پسِ منظر میں جانا ہوگا۔۔۔ اور میں نے پاکستان کیساتھ ایران کا تذکر شروع میں ہی کیوں کیا؟ اس کا جواب بھی آپ کو آئندہ سطور میں مل جائے گا۔

ایک لاکھ امریکی ڈالر سر کی قیمت لگنے والے دنیا کے ٹاپ خطرناک ترین ناموں میں درج ہونے والا ایک نام ملک اسحاق نہ کوئی عرب شہزادہ تھا، نہ ہی افغانستان کے ریگزاروں کا باسی ملا عمرؒ۔۔۔۔۔۔۔

علاقہ سرائیکستان ضلع رحیم یار خان جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے کپڑے کا معروف تاجر ملک محمد اسحاق نہ کوئی اعلیٰ عصری تعلیم یافتہ تھا، نہ ہی کسی مدرسے کا فاضل ۔۔۔۔۔۔

ملک اسحاق کا گھرانہ نہ کوئی انتہائی مذہبی تھا، نہ سیاسی ۔۔۔۔۔ البتہ ملک اسحاق کم نوجوانی میں ہی رحیم یار خان کے معروف تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔۔۔۔

1979 میں ایران میں فرانس میں پناہ گزین خمینی انقلاب کے بعد ایران کی جانب سے پاکستان میں اپنے انقلاب کو مسلط کرنے کیلئے پاکستان میں اہل تشیع کو استعمال کیا گیا، اور تحریکِ نفاذ فقہ جعفریہ کی بنیاد ڈال دی گئی۔۔۔۔۔ جس نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر ایرانی انقلاب کی راہیں ہموار کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔۔۔۔ یہ انقلاب مکمل طور پر پاکستان میں امن و امان کا مخالف اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم تھا۔۔۔۔۔

اس انقلاب کو پاکستان میں لانے کی کوشش کیخلاف 1986 میں جنوبی پنجاب ہی کے ضلع جھنگ سے اٹھنے والی تحریک انجمن سپاہِ صحابہؓ کے بانی مولانا حق نواز جھنگویؒ نے ایران میں خمینی انقلاب کے بعد پاکستان میں اسے برآمد کرنے کی کوششوں اور پاکستان میں اصحابِؓ رسولﷺ کی توہین پر مبنی ایرانی لٹریچر کی تقسیم کیخلاف تحریک چلائی۔۔۔۔۔

جو تحریک چند ماہ میں پنجاب میں پھیلی اور پھر پاکستان بھر میں ایک چھوٹی انجمن ملک گیر تحریک میں بدل کر "سپاہِ صحابہؓ پاکستان " بن گئی۔۔۔۔

تحریک کے پھیلاؤ میں مؤثر ترین کردار بانیِ جماعت علامہ حق نواز جھنگوی کی دل سوز طرزِ بیان نے ادا کیا، مولانا حق نواز جھنگوی کی مقبولیت سب سے زیادہ نوجوانوں میں تھی، انہی جوانوں میں ایک رحیم یار خان کا ملک اسحاق بھی شامل تھا، ملک اسحاق 1988 میں سپاہِ صحابہؓ میں شامل ہوئے۔۔۔۔۔

جو بہت جلد جماعت کی مرکزی سطح تک پہنچ چکا تھا۔۔۔۔ ملک اسحاق نے جماعت کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے علاقے میں جماعت کو خوب متحرک کیا۔۔۔۔۔ اور مولانا حق جواز جھنگوی نے کراچی تا خیبر اصحابؓ رسولﷺ کی مدح سرائی کے ڈنکے بجائے۔۔۔۔۔ اور ساتھ ہی اصحابؓ رسول کے دشمنان کا علمی تعاقب جاری رکھا۔۔۔۔ مولانا نے ہمیشہ مکالمے اور دلیل کی دعوت دی۔۔۔اپنے جلسوں میں حوالہ جات اور کتب کا ڈھیر بطور دلیل ساتھ لیجاتے تھے، ۔۔۔۔ مگر پھر مقام وہی آیا کہ ان کے فریق مخالف نے مکالمے کے رستے میں گولی اور گالی کے رواج جو فروغ دیا۔۔۔۔۔۔

یوں پاکستان کی دھرتی پر خمینی انقلاب کے آگے بم باندھنے والا ایک چھوٹے سے گاؤں کا مولوی ایرانی ملاؤں کیلئے دردِ سر بن گیا۔۔۔۔۔ اور ایران نے اپنے مقاصد کی راہ میں حائل آواز دبانے کیلئے حق نواز جھنگوی کو رستے سے ہٹانے کیلئے کوششیں شروع کردیں، اور بالآخر انہیں تنطیم بنانے کے فقط 4 سال بعد 22 فروری 1990 کو جھنگ میں شہید کردیا گیا۔۔۔۔۔

یہ وہ وقت تھا جب سپاہِ صحابہؓ خود کو یتیم تصور کرنے لگی تھی، مگر شائد مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کا اپنے مشن سے اخلاص تھا کہ تحریک میں یکے از دیگر جری اور جانثار قیادت ملی۔۔۔۔۔ مولانا حق نواز شہیدؒ کی شہادت کے بعد سپاہ صحابہؓ نے مزید بڑے پیمانے پر جماعت کو پھیلا دیا، اور جھنگوی شہید کی شہادت کے قلیل عرصے بعد 1991 میں ان کے جانشین اور رکن قومی اسمبلی مولانا ایثارالقاسمی کو بھی شہید کردیا گیا۔۔۔۔۔ اس دوران سپاہِ صحابہؓ کے کئی کارکنان قتل کئے جاچکے تھے۔۔۔۔

مولانا حق نواز جھنگویؒ نے ہمیشہ پرامن مذاکرے اور جمہوری رستے سے آئین سازی سے اس فرقہ واریت کو روکنے کی جدوجہد کی، جس کا اعتراف ان کی شہادت کے بعد پاکستان کی تمام اعلیٰ قیادت نے کیا، ۔۔۔۔ مگر پے درپے مرکزی قیادت کی قربانی اور کارکنان کا تسلسل سے قتل عام شروع ہوا۔۔۔۔اور سرکاری سطح پر اس کی جوئی شنوائی نہ ہوئی۔۔۔۔

سپاہِ صحابہؓ کے قیام کے بعد اہل تشیع نے 1993 میں سپاہ محمد کی بنیاد ڈالی، جس کی قیادت غلام رضا نقوی نے سنبھالی، سپاہ محمد نے سپاہ صحابہؓ کی قیادت اور کارکنان کو قتل عام شروع کردیا، 1997 میں سرپرستِ اعلیٰ سپاہ صحابہؓ مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی پر بم دھماکہ بھی سپاہ محمد نے کیا، جس میں مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی شہید اور ان کے ہمراہ جماعت کے صدر ایم این اے مولانا اعظم طارق شدید زخمی ہوئے۔
یہ وہ وقت تھا جب نوجوانوں میں انتقام کے جذبے نے سر اٹھانا شروع کردیا، اور مرکزی جماعت انتقامی سوچ کی شدید مخالف تھی۔۔۔۔۔ یہیں سے چند سرپھرے نوجوانوں نے اپنے ساتھیوں کے خون کا انتقام لینے کا اعلان کرتے ہوئے عسکری کاروائیوں کا اعلان کیا۔۔۔۔

انہی عوامل کے ردعمل میں 1996 میں لشکر جھنگوی کا قیام عمل میں آیا، 1996 ہی میں غلام رضا نقوی کو گرفتار کیا گیا، اور سپاہ محمد کی قیادت مرید عباس یزدانی اور منور عباس علوی نے سنبھالی، اسی سال ستمبر میں مرید عباس یزدانی کو لشکر جھنگوی نے اپنی رہائش گاہ پر فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

جماعتی نظم سے منحرف ہو کر ہتھیار کا جواب ہتھیار سے دینے کا آغاز کرنے والے چند نوجوانوں نے 1996 میں اپنی عسکری تحریک کا نام "لشکرِ جھنگوی" تجویز کیا، ۔۔۔۔جو کہ آئین کی رو سے غیر قانونی اور حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے قانون ہاتھ میں لینے والا فعل تھا، اور ان باغی نوجوانوں نے قانون ہاتھ میں لیا، لشکر جھنگوی کے سربراہ تنظیم کے بانی ملک اسحاق اور سالارِ اعلیٰ پنجاب سے تعلق رکھنے والے حافظ ریاض بسرا کو بنایا گیا۔۔۔۔

یہ گروہ ایک درجن کے لگ بھگ افراد پر مشتمل تھا، جن سے سپاہ صحابہؓ کی سپریم کونسل نے لاتعلقی کا اعلان کردیا، اس وقت جماعت کے سربراہ شہرہ آفاق کتاب "تاریخی دستاویز" کے مصنف علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی تھے، انتہائی مدبرانہ سوچ کے حامل، مفکر، مؤرخ اور دانشور تھے، ہمیشہ مکالمے کی دعوت دیتے رہے، مگر افسوس اب کی بار بھی مکالمے کی جگہ بندوق کا استعمال کرتے ہوئے جنوری 1997 میں مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی کو بھی لاہور ہائیکورٹ میں پیشی کے دوران خودکش بم دھماکے میں شہید کردیا گیا۔۔۔۔

سپاہ صحابہؓ کا ہر گرنے والا لاشہ لشکرِ جھنگوی کی شدت کو مزید بھڑکاتا رہا اور پھر لشکرِ جھنگوی نے پاکستان کی سرزمین پر فریق مخالف اہل تشیع کا اس دھڑلے سے قتلِ عام شروع کردیا، اور ایک سال کے اندر اندر لشکر جھنگوی پاکستان کی سب سے گوریلا عسکری گروہ بن گیا۔۔۔۔

لشکر جھنگوی کے بنتے ہی اہل تشیع کی عسکری جماعت سپاہ محمد نے بھی اہلسنت کا بے دریغ قتل عام شروع کردیا، یوں یہ آگ شدت پکڑتی گئی اور دبلا پتلا ریاض بسرا حکومتِ پنجاب کیلئے درد سر بن گیا، اہل تشیع کے جلوس، مجالس اور تقریبات بزور بازو روکنے کیلئے کمربستہ ریاض بسرا ریاست کا اشتہاری قرار دیا گیا ۔۔۔۔۔ اور گرفتاری کے بعد2002 میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا۔۔۔۔

ریاض بسرا کے بعد ملک اسحاق کو لشکرِ جھنگوی کا سالار اعلیٰ چنا گیا جہاں سے ملک اسحاق نے دہشت کی وہ دھاک بٹھائی کہ جیسے ریاض بسرا ملک اسحاق کے روپ میں دوبارہ پیدا ہوچکا ہو۔۔۔۔۔

اور 2001 میں ہی ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے تمام جماعتوں کو کالعدم قرار دیا تو ساتھ ہی لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہؓ، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور سپاہ محمد بھی کالعدم ہوگئیں۔

اور یوں ملک اسحاق کو 2001 میں گرفتار کرلیا گیا، اور جون 2011 تک ملک اسحاق جیل میں رہے، ملک اسحاق طویل اسیری کے بعد عدالت سے تمام مقدمات میں بری ہوکر 2011 میں سپریم کورٹ سے اپنے چند ساتھیوں سمیت باعزت بری ہوئے، جن میں لشکرِ جھنگوی کے بانیوں میں شمار ہونے والے ملک اسحاق کے دیرینہ ساتھی غلا رسول بخاری ایڈوکیٹ بھی شامل تھے۔

ملک اسحاق اور ساتھیوں کی ایک بات کو ریاست نے بھی تسلیم کیا کہ وہ قانون کے ساتھ تعاون کرتے رہے اور ہمیشہ ریاست، ملکی اداروں اور حکومتی ارکان پر حملوں سے برأت کا اعلان کرتے رہے،

ملک اسحاق نے رہائی کے بعد اپنی عسکری کاروائیاں ختم اعلان کرتے ہوئے لشکرِ جھنگوی کو تحلیل کردیا، اور اہلسنت والجماعت کے پلیٹ فارم سے پرامن جدوجہد کا آغاز کیا، مگر بارہا وہ حکومت کو باور کراتے رہے کہ وہ ہتھیار چھوڑ چکا ہے، عسکریت پسندی سے ہاتھ کھینچ چکا ہے، مگر اصحابؓ رسولﷺ کی توہین کرنے والے کو قانون نے نہ روکا تو مجبوراً ہتھیار اٹھانے پڑیں گے۔

بہرکیف ملک اسحاق پھر عوامی جلسوں سے خطاب کرتے رہے، اور ایک عام پاکستانی شہری کی طرح زندگی گزارنے لگے، الیکشن 2013 کے قریب آتے ہی ملک اسحاق اور ان کے پرانے حلیف سید غلام رسول شاہ بخاری ایڈوکیٹ نے سیاسی جدوجہد کا بھی آغاز کیا، اور ایک بڑا ووٹ بینک رکھنے کی پوزیشن میں آگئے۔۔۔۔۔

یہیں سے اہلسنت والجماعت کے اندر اختلافات شدت پکڑتے گئے، اور اہلسنت والجماعت دو دھڑوں میں تبدیل ہوئی، پنجاب تقریباﹰ ملک اسحاق کے کنٹرول میں تھا، اور ملک بھر میں ملک اسحاق کی بہت بڑی فالوونگ تھی، ملک اسحاق نے جماعت کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی سے جماعت کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں کے متعلق شدید اختلاف کیا، اور مؤقف دیا کہ جماعتی نظم ویسا نہیں جیسا ہونا چاہیئے تھا، یہ وہ وقت تھا جب مولانا لدھیانوی شدید دباؤ میں تھے، نہ وہ اپنے دیرینہ ساتھی ڈاکٹر خادم ڈھلوں کو علیحدہ کرنا چاہتے تھے، نہ ہی ملک اسحاق کو علیحدہ کرکے اپنے ہاتھ سے اہلسنت والجماعت کی ڈور ملک اسحاق کے ہاتھ میں دینا چاہتے تھے۔

انہی اختلافات کے دوران مولانا احمد لدھیانوی کے حامی اور اہلسنت والجماعت پنجاب کے صدر مولانا شمس الرحمٰن معاویہ کو لاہور میں شہید کردیا گیا، جس کا الزام ملک اسحاق گروپ کے مرکزی کردار سید غلام رسول شاہ ایڈوکیٹ پر ڈالا گیا، اس واقعے کے کچھ عرصے بعد جماعت نے مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں ملک اسحاق اور سید غلام رسول شاہ کی رکنیت خارج کرکے جماعت سے علیحدہ کردیا، اور 2012 میں ان سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔

اب جماعت کے دو ٹکڑے بن چکے تھے، پنجاب سارا ملک اسحاق اور غلام رسول شاہ گروپ کا حامی تھا، بلوچستان اور خیبرپختون خواہ میں ملک اسحاق اور احمد لدھیانوی کے حامی تقریباﹰ برابر تھے، سندھ میں مولانا اورنگزیب فاروقی انتہائی مضبوط پالیسی ساز ثابت ہوئے اور جماعت کا ہولڈ مولانا احمد لدھیانوی ہی کی سرپرستی میں رکھا، چونکہ مولانا اورنگزیب فاروقی مولانا احمد لدھیانوی کے دیرینہ ساتھی رہے اور کراچی میں جماعت پر کڑے وقت میں کھڑے رہے۔

اسی عرصے میں ملک اسحاق اور غلام رسول شاہ بخاری دوبارہ گرفتار کئے گئے اور پابند سلاسل رہے، گرفتاری سے چند عرصہ قبل سید غلام رسول شاہ نے اپنے ایک جلسے میں قرآن مجید پر حلف لیتے ہوئے مولانا شمس الرحمٰن معاویہ کے قتل سے برأت کا اعلان کیا، اور گرفتاری کے دوران ملک اسحاق کا جیل سے ایک مفصل خط بعنوان "دردِ دل" ماہنامہ "نفاذِ خلافتِ راشدہ" نامی رسالے میں شائع ہوا، جس میں انہوں نے اہلسنت والجماعت سے رکنیت ختم کئے جانے کی وجوہات میں لکھا کہ وہ لدھیانوی گروپ کے ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں کی جانب جماعتی پالیسی کے مخالف چلنے اور جماعتی فنڈ میں خرد برد میں ملوث ہونے کی وجہ سے سخت نالاں تھے، اور مولانا احمد لدھیانوی سے بارہا اس متعلق بات چیت کی مگر احمد لدھیانوی ٹال مٹول سے کام لیتے رہے،

اس خط کے شائع ہونے کے بعد ملک بھر کے کارکنان میں مایوسی پھیلی اور جماعت کے اندر گروہ بندی ہوئی، یہ کھینچا تانی جاری تھی کہ آرمی پبلک سکول میں بدترین دہشتگردی کا سانحہ پیش آیا اور ملک دشمن سفاک دہشتگردوں نے 144 معصوم کلیوں کو روند ڈالا۔۔۔۔۔

اس دلخراش واقعے نے ملک بھر میں کہرام مچادیا اور عسکریت پسندوں کیخلاف قوم متحد ہوئی اور انہیں پھانسیاں دینے کے مطالبات سامنے آئے، یوں قومی سلامتی اجلاس بلایا گیا اور نیشل ایکشن پلان تشکیل دیا گیا، جس میں ملٹری کورٹس بنائے گئے اور فوجی عدالتوں نے چند دنوں میں کئی سزائے موت کے قیدیوں کو پھانسیاں دے دیں۔۔۔

اور اسی نیشنل ایکشن پلان کے تحت 29 جولائی 2015 کو ملک اسحاق، ان کے دو جواں سالہ بیٹے ملک عثمان اور ملک حقنواز سمیت ان کے دیرینہ ساتھی سید غلام رسول شاہ بخاری اور 12 دیگر افراد کو مظفر گڑھ میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔۔۔۔۔ پہلے اس واقعے کو پولیس مقابلہ قرار دیا گیا، لیکن بعد میں وزیر قانون پنجاب رانا ثناؤ اللہ خان نے اسے نیشنل ایکشن پلان کا حصہ قرار دیا ۔

یہ مقابلہ جعلی تھا یا اصلی ۔۔۔۔ اس پر تو بہت مباحثے ہوئے، سینکڑوں پروگرامز اس پر ہوئے، اور چھوٹو گینگ آپریشن نے پنجاب پولیس میں مقابلے کی استطاعت کا پردہ چاک کردیا تھا کہ وہ مقابلے میں کتنی صلاحیت رکھتی ہے، اور اس وقت بھی پاک فوج کے جوانوں نے آپریشن کرکے چھوٹو گینگ سے خلاصی دلائی ۔۔۔

بہرکیف جو بھی ہو ملک اسحاق نے ہمیشہ خود کو قانون کے سامنے پیش کیا اور عدالتوں کا سامنا کیا، مگر اس کے باوجود اس طرح بے دردی سے قتل کرنا وہ بھی ایک باپ کو دو جوان بیٹوں سمیت قتل کرکے پامال لاشے گھر بھیجنا کسی سفاکیت سے کم نہیں ہے، کیا ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ جس گھر میں ایک عورت کے سامنے اس کے صاحب اولاد جوان بیتے اور شوہر کا خون میں لت پت لاشہ رکھ دیا جائے تو کیا قیامت گزرے گی ۔۔۔۔۔؟ اور بیوہ ملک اسحاق نے یہ قیامت کیز منظر آنکھوں سے دیکھا۔۔۔۔

ملک اسحاق کے قتل کو ریاستی قتل کہیں، یا عدالتی قتل، غیر قانونی قتل کہیں یا جائز اور اصولی قتل مگر درحقیقت یہ غیر منصفانہ اور اندوہناک قتل تھا، جس میں ایک قانون کا سامنا کرنے والے شخص کو قتل کیا گیا اور وہ بھی 16 ساتھیوں سمیت۔۔۔۔

بہت کیف جہاں ملک اسحاق اور ہمنواؤں کے خون میں لت پت لاشوں پر بحثیت انسان اور مسلمان دکھ اور افسوس ہوتا ہے وہیں سوال یہ بھی اٹھے گا کہ انہی افرادکے ہاتھوں اہل تشیع کا جو قتل ہوا اس کا کیا ہوگا ۔۔۔۔؟ ان کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں بھی روئی ہونگی، قیامت ان پر بھی گزری ہوگی۔۔۔۔ یہ بات عین حق اور درست ہے کہ ہر شخص کو اپنے عزیز کا دکھ ہوتا ہے، اور ایک بے قصور انسان کا قتل کسی طور پر جائز نہیں، نہ قانونی لحاظ سے، نہ ہی شرعی نقطۂ نظر سے ۔۔۔۔۔۔

اس انتقامی روش نے ہزاروں افراد کی جانیں لیں، چاہے وہ اہلسنت سے تعلق رکھنے والے ہوں یا اہل تشیع سے، جانبین کی نامور شخصیات کو اس دنگل میں جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔

مگر پاکستان میں یہ قتل و غارت گری کا سبب کیا ہے؟ اور کیوں ایک تاجر دہشت کی علامت بن گیا۔۔۔؟ کیوں وہ مکالمہ چھوڑ کر بندوق کی زبان بولنے لگا تو اس کا آسان جواب یہ ہے کہ جب دلیل کی جگہ گولی اور گالی رواج پا جائے پھر خون بہتے ہیں، جانیں جاتی ہیں۔۔۔۔امن لٹتا ہے، شورش برپا ہوتی ہے۔

یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ امت مسلمہ کے جذبات مجروح کرنے والے لٹریچر کا فروغ نہ ہوتا تو دفاعی تحاریک جنم نہ لیتیں، اصحابِؓ رسولﷺ کی تحقیر و اہانت نہ ہوتی تو مدحِ صحابہؓ اور دفاعِ ناموسِ صحابہؓ کی تحاریک نہ چلانی پڑتیں۔۔۔

اگر علمی دلائل کا جواب گولی سے نہ دیا جاتا تو یہ فتنہ نہ برپا ہوتا، ۔۔۔۔ اگر قانون کو ہاتھ میں نہ لیا جاتا تو ملک اسحاق جیسے نام پیدا نہ ہوتے۔۔۔۔ مگر اس میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ریاست نے قانون پر اتنی گرفت رکھی کہ کسی کے ایمان کی بنیاد بننے والے عقائد پر تبرا کرنے والوں کو قانونی رستے سے روکا.۔۔۔؟ کیا شاگردانِ رسولﷺ کی سرعام تکفیر کرنے والوں کی فتویٰ باز روش کو روکا گیا۔۔۔۔؟ اے کاش! اگر روکا ہوتا تو آج گلی کوچوں میں کافر کافر کے نعرے لکھے اور لگائے نہ جارہے ہوتے اور نہ ہی حکومت کو سر پیٹ کر رہنا پڑتا۔

افسوس تو یہ ہے کہ پاکستان میں گاجر اور مولی چوری کرنے والا سزا پاتا ہے مگر نبی کریمﷺ کی گستاخی کرنے والے، اصحابؓ رسولﷺ و اہلبیتِؓ رسولﷺ کی توہین کرنے والے قانون شکن مجرموں کو کھلی چھوٹ دی جاتی ہے، پھر کسی کے جذبات مجروح ہوجائیں اور وہ قانون ہاتھ میں لے تو نتیجے میں ملک اسحاق اور ممتاز قادری جیسے پیدا ہوجاتے ہیں اور ریاست کو کفِ افسوس ملنے پڑتے ہیں۔

خلاصہ کلام یہ کہ جب قانون پر حکام کی گرفت کمزور ہو، عدل کا فقدان ہو تو پھر معاشرے میں مایوسی جنم لیتی ہے، جس سے لوگ قانون ہاتھوں میں لیتے ہیں، اور پھر یہ سفر پوائنٹ آف نو ریٹرن سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔

کالج میں لڑکیوں


خواتین کے ایک معروف سرکاری کالج میں انگلش کا پیریڈ تھاکہ ایک طالبہ زور زور سے رونے لگی ٹیچر نے پڑھانا چھوڑا بھاگم بھاگ اس کے پاس جا پہنچی بڑی نرمی سے دریافت کیا کیا بات ہے بیٹی کیوں رورہی ہو۔۔۔ اس نے سسکیاں لے کر جواب دیا میرے فیس کے پیسے چوری ہوگئے ہیں بیگ میں رکھے تھے کسی نے نکال لئے ہیں۔۔۔ ٹیچر نے ایک لڑکی کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کمرے کے دروازے بند کردو کوئی باہر نہ جائے سب کی تلاشی ہوگی ٹیچر نے سامنے کی تین رو سے طالبات کی خود تلاشی لی اور پھر انہیں پوری کلاس کی طالبات کی جیبیں چیک کرنے اور بستوں کی تلاشی کی ہدایت کردی کچھ دیر بعد دو لڑکیوں کی تکرار سے اچانک کلاس ایک بار پھر شور سے گونج اٹھی ٹیچر اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔کیا بات ہے؟
” مس تلاشی لینے والی طالبہ بولی ۔۔۔ کوثر اپنے بیگ کی تلاشی نہیں لینے دے رہی۔۔۔ٹیچر وہیں تڑک سے بولی پیسے پھر اسی نے چرائے ہوں گے کوثر تڑپ کر بولی نہیں۔۔ نہیں مس میں چور نہیں ہوں ”چور۔۔۔نہیں ہو تو پھربیگ کی تلاشی لینے دو ”نہیں ۔۔کوثر نے کتابوں کے بیگ کو سختی سے اپنے سینے کے ساتھ لگالیا نہیں میں تلاشی نہیں دوں گی ۔۔۔ٹیچر آگے بڑھی اس نے کوثر سے بیگ چھیننے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکی اسے غصہ آگیا ٹیچر نے کوثر کے منہ پر تھپڑ دے مارا وہ زور زور سے رونے لگ گئی ٹیچر پھر آگے بڑھی ابھی اس نے طالبہ کو مارنے کیلئے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ ایک بارعب آواز گونجی ۔۔۔رک جاو ٹیچر نے پیچھے مڑکر دیکھا تو وہ پرنسپل تھیں نہ جانے کب کسی نے انہیں خبرکردی تھی۔۔۔انہوں نے طالبہ اورٹیچرکو اپنے دفتر میں آنے کی ہدایت کی اور واپس لوٹ گئیں ۔۔۔پرنسپل نے پوچھا کیا معاملہ ہے ٹیچرنے تمام ماجراکہہ سنایا۔۔۔انہوں نے طالبہ سے بڑی نرمی سے پوچھا ”تم نے پیسے چرائے؟۔

”نہیں اس نے نفی میں سرہلا دیا۔۔۔ کوثر کی آنکھوں میں آنسو  بھر آئے تھے ”بالفرض مان بھی لیا جائے۔۔۔پرنسپل متانت سے بولیں تمام طالبات اپنی اپنی تلاشی دے رہی تھیں تم نے انکار کیوں کیا؟ کوثر خاموشی سے میڈم کو تکنے لگی ۔۔ اس کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکل کر اس کے چہرے پر پھیل گئے۔۔۔ٹیچر نے کچھ کہنا چاہا جہاندیدہ پرنسپل نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا پرنسپل کا دل طالبہ کا چہرہ دیکھ کر اسے چور ماننے پر آمادہ نہ تھا پھر اس نے تلاشی دینے کے بجائے تماشا بننا گوارا کیوں کیا۔۔۔ اس میں کیا راز ہے ؟ وہ سوچنے لگی اور پھر کچھ سوچ کر ٹیچر کو کلاس میں جانے کا کہہ دیا۔۔۔پرنسپل نے بڑی محبت سے کوثر کو اپنے سامنے والی نشست پر بٹھا کر پھر استفسار کیا اس نے خاموشی سے اپنا بیگ ان کے حوالے کر دیا پرنسپل نے اشتیاق، تجسس اور دھڑکتے دل کے ساتھ بیگ کھولا۔۔۔
مگر یہ کیا کتابوں کاپیوں کے ساتھ ایک کالے رنگ کا پھولا پچکا ہوا شاپر بیگ بھی باہر نکل آیا طالبہ کو یوں لگا جیسے اس کا دل سینے سے باہر نکل آیا ہو۔ کوثر کی ہچکیاں بندھ گئیں پرنسپل نے شاپر کھولا اس میں کھائے ادھ کھائے برگر، سموسے اور پیزے کے ٹکڑے، نان کچھ کباب اور دہی کی چٹنی میں ڈوبی چکن کی بوٹیاں۔ ۔۔سارا معاملہ پرنسپل کی سمجھ میں آ گیا ۔۔ وہ کانپتے  وجود کے ساتھ اٹھی روتی ہوئی کوثر کو گلے لگا کر خود بھی رونے لگ گئی۔۔۔۔ کوثر نے بتایا میرا کوئی بڑا بھائی نہیں۔۔۔دیگر 3 بہن بھائی اس سے چھوٹے ہیں والد صاحب ریٹائرڈمنٹ سے پہلے ہی بیمار رہنے لگے تھے گھر میں کوئی اور کفیل نہیں ہے پنشن سے گذارا نہیں ہوتا بھوک سے مجبور ہو کر ایک دن رات کا فاقہ تھا ناشتے میں کچھ نہ تھا کالج آنے لگی تو بھوک اور نقاہت سے چلنا مشکل ہوگیا۔
میں ایک تکہ کباب کی د کان کے آگے سے گذری تو کچرے میں کچھ نان کے ٹکڑے اور ادھ کھانا ایک چکن پیس پڑا دیکھا بے اختیار اٹھاکرکھالیا قریبی نل سے پانی پی کر خداکر شکر ادا کیا۔۔۔پھر ایسا کئی مرتبہ ہوا ایک دن میں دکان کے تھڑے پر بیٹھی پیٹ کا دوزخ بھررہی تھی کہ دکان کا مالک آگیا اس نے مجھے دیکھا تو دیکھتاہی رہ گیا ندیدوںکی طرح نان اور کباب کے ٹکڑے کھاتا دیکھ کر پہلے وہ پریشان ہوا پھر ساری بات اس کی سمجھ میں آگئی وہ ایک نیک اور ہمدرد انسان ثابت ہوا میںنے اسے اپنے حالات سچ سچ بتا دئیے اسے بہت ترس آیا اب وہ کبھی کبھی میرے گھر کھانا بھی بھیج دیتا ہے اور گاہکوں کا بچا ہوا کھانا ،برگر وغیرہ روزانہ شاپر میں ڈال اپنی دکان کے باہر ایک مخصوص جگہ پررکھ دیتا ہے۔
جو میں کالج آتے ہوئے اٹھا کر کتابوں کے بیگ میں رکھ لیتی ہوں اور جاتے ہوئے گھر لے جاتی ہوں میرے امی ابو کو علم ہے میں نے کئی مرتبہ دیکھا ہے لوگوں کا بچا کھچا کھانا کھاتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں بہن بھائی چھوٹے ہیں انہیں کچھ علم نہیں وہ تو ایک دوسرے سے چھین کر بھی کھا جاتے ہیں
۔۔۔۔یہ چھوٹی سی سچی کہانی کسی بھی درد ِ دل رکھنے والے کو جنجھوڑ کر رکھ سکتی ہے ہم غور کریں تھوڑی سی توجہ دیں تو ہمارے اردگرد بہت سی ایسی کہی ان کہی کہانیوں کے کردار بکھرے پڑے ہیں اس سفید پوشوں کیلئے کوئی بھی جمہوری حکومت کچھ نہیں کرتی ایسے پسے، کچلے سسکتے اور بلکتے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پاکستان میں کوئی ڈکٹیٹر راج کررہا ہے یا جمہوریت کا بول بالا ہے۔۔۔
 نہ جانے کتنے لاکھوں اورکروڑوں عوام کا ایک ہی مسئلہ ہے دو وقت کی روٹی جو بلک بلک کر تھک گئے ہیں اے پاکستان کے حکمرانوں.........
 خدا کے واسطے رحم کرو۔۔۔
غریبوں سے ہمدردی کرو ۔۔۔ان کو حکومت یا شہرت نہیں دو وقت کی روٹی چاہیے حکمران غربت کے خاتمہ کیلئے اناج سستا کر دیں تو نہ جانے کتنے لوگ خودکشی کرنے سے بچ جائیں۔۔۔
یقینا ہم میں سے کسی نے کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ ہم روزانہ کتنا کھانا ضائع کرتے ہیں اور کتنے لوگ بھوک ،افلاس کے باعث دانے دانے کیلئے محتاج ہیں -
رزق کی حرمت اور بھوکے ہم وطنوں کا احساس کرنا ہوگا حکمران کچھ نہیں کرتے نہ کریں ہم ایک دوسرے کا خیال کریں ایک دوسرے کے دل میں احساس اجاگر کریں یہی اخوت کا تقاضا ہے اسی طریقے سے ہم ایک دوسرے میں خوشیاں بانٹ سکتے ہیں آزمائش شرط ہے۔

Sunday, July 24, 2016

میری ماں کی ایک آنکھ تھی

میری ماں کی ایک آنکھ تھی اور وہ میرے سکول کے کیفیٹیریا میں خانسامہ تھی جس کی وجہ سے میں شرمندگی محسوس کرتا تھا سو اُس سے نفرت کرتا تھا ۔ میں پانچویں جماعت میں تھا کہ وہ میری کلاس میں میری خیریت دریافت کرنے آئی ۔ میں بہت تلملایاکہ اُس کو مجھے اس طرح شرمندہ کرنے کی جُراءت کیسے ہوئی ۔ اُس واقعہ کے بعد میں اُس کی طرف لاپرواہی برتتا رہا اور اُسے حقارت کی نظروں سے دیکھتا رہا ۔
اگلے روز ایک ھم جماعت نے مجھ سے کہا “اوہ ۔ تمہاری ماں کی صرف ایک آنکھ ہے”۔ اُس وقت میرا جی چاہا کہ میں زمین کے نیچے دھنس جاؤں اور میں نے ماں سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ۔ میں نے جا کر ماں سے کہا “میں تمہارھ وجہ سے سکول میں مذاق بنا ہوں ۔ تم میری جان کیوں نہیں چھوڑ دیتی ؟” لیکن اُس نے کوئی جواب نہ دیا ۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا تھا ۔ میں ماں کے ردِ عمل کا احساس کئے بغیر شہر چھوڑ کر چلا گیا ۔
میں محنت کے ساتھ پڑھتا رہا ۔ مجھے کسی غیر مُلک میں تعلیم حاصل وظیفہ کیلئے وظیفہ مل گیا ۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے اسی ملک میں ملازمت اختیار کی اور شادی کر کے رہنے لگا ۔ ایک دن میری ماں ھمیں ملنے آ گئی ۔ اُسے میری شادی اور باپ بننے کا علم نہ تھا ۔ وہ دروازے کے باہر کھڑی رہی اور میرے بچے اس کا مذاق اُڑاتے رھے ۔
میں ماں پر چیخا ” تم نے یہاں آ کر میرے بچوں کو ڈرانے کی جُراءت کیسے کی ؟” بڑی آہستگی سے اُس نے کہا “معافی چاہتی ہوں ۔ میں غلط جگہ پر آ گئی ہوں”۔ اور وہ چلی گئی ۔
ایک دن مُجھے اپنے بچپن کے شہر سے ایک مجلس میں شمولیت کا دعوت نامہ ملا جو میرے سکول میں پڑھے بچوں کی پرانی یادوں کے سلسلہ میں تھا ۔ میں نے اپنی بیوی سے جھوٹ بولا کہ میں دفتر کے کام سے جا رہا ہوں ۔ سکول میں اس مجلس کے بعد میرا جی چاہا کہ میں اُس مکان کو دیکھوں جہاں میں پیدا ہوا اور اپنا بچپن گذارہ ۔ مجھے ہمارے پرانے ہمسایہ نے بتا یا کہ میری ماں مر چکی ہے جس کا مُجھے کوئی افسوس نہ ہوا ۔ ہمسائے نے مجھے ایک بند لفافے میں خط دیا کہ وہ ماں نے میرے لئے دیا تھا ۔ میں بادلِ نخواستہ لفافہ کھول کر خط پڑھنے لگا ۔ لکھا تھا.
“میرے پیارے بیٹے ۔ ساری زندگی تُو میرے خیالوں میں بسا رہا ۔ مُجھے افسوس ہے کہ جب تم مُلک سے باہر رہائش اختیار کر چکے تھے تو میں نے تمہارے بچوں کو ڈرا کر تمہیں بیزار کیا ۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ تم اپنے سکول کی مجلس مین شمولیت کیلئے آؤ گے تو میرا دل باغ باغ ہو گیا ۔ مُشکل صرف یہ تھی کہ میں اپنی چارپائی سے اُٹھ نہ سکتی تھی کہ تمہیں جا کر دیکھوں ۔ پھر جب میں سوچتی ہوں کہ میں نے ہمیشہ تمہیں بیزار کیا تو میرا دل ٹُوٹ جاتا ہے ۔
کیا تم جانتے ہو کہ جب تم ابھی بہت چھوٹے تھے تو ایک حادثہ میں تمہاری ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی ۔ دوسری ماؤں کی طرح میں بھی اپنے جگر کے ٹکڑے کو ایک آنکھ کے ساتھ پلتا بڑھتا اور ساتھی بچوں کے طعنے سُنتا نہ دیکھ سکتی تھی ۔ سو میں نے اپنی ایک آنکھ تمہیں دے دی ۔ جب جراحی کامیاب ہو گئی تو میرا سر فخر سے بلند ہو گیا تھا کہ میرا بیٹا دونوں آنکھوں والا بن گیا اور وہ دنیا کو میری آنکھ سے دیکھے گا.