The Daily Mail Urdu

Sunday, July 17, 2016

ملتان ،بہاوٴالدین زکریایونیورسٹی کی طالبہ کے ساتھ طالبعلم عاطف حمیدکا ساتھی کے ہمراہ گینگ ریپ


ملتان (ڈیلی میل اُردو  اخبارآن لائن۔17جولائی۔2016ء)تھانہ بہاوٴالدین زکریاکے علاقے احمدآبادکے قریب بہاوٴالدین زکریایونیورسٹی کی طالبہ شمائلہ اشفاق کے ساتھ بہاوٴالدین زکریامیں زیرتعلیم بی فارمیسی کے طالبعلم عاطف حمیدکی اپنی ساتھی شان عاصم کے ہمراہ گینگ ریپ ،ملزمان گزشتہ نوماہ کے زائدعرصہ سے طالبہ کی فحش ویڈیوبناکربلیک میل کررہے تھے کہ ہفتہ کی شام طالبہ نے تنگ آکراپنے کزن بلاکرایک ملزم عاطف حمیدکوموقع پرپولیس بلاکرگرفتارکرادیاجبکہ پولیس تھانہ بہاوٴالدین زکریاملتان دوسرے ملزم شان عاصم جوسابق نائب ناظم ڈاکٹراخترکابیٹاہے اس کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں طالبہ کے بیان کے مطابق شمائلہ اشفاق مظفرگڑھ کی رہائشی ہے اوراس کے باپ کی 
کریانے کی دکان ہے جبکہ اس کی دیگرچھ بہنیں بھی ہیں ۔
ملزمان نے ملازمت کاجھانسہ دیکراپنے ساتھی شان کے ہمراہ باڑہ مارکیٹ کے ایک ہوٹل میں پہلی دفعہ زیادتی کانشانہ بنایااوراس کی فحش ویڈیوبنائی بعدازاں اس نے طالبہ کوبلیک میل کرنے کیلئے اس کودھمکیاں بھی دیتارہااوراس سے دوبارہ زیادتی کرتے رہے ،جس سے تنگ آکرطالبہ نے آج اپنے کزن کے ہمراہ پولیس کوبلواکرموقع پرگرفتارکروادیا،ملزم نے خودکویونیورسٹی میں فارمیسی کالیکچرربھی بتایااورملتان میں ایک مشہورمیڈیکل کالج کواپنے باپ کے نام سے منسوب کیا۔
پولیس نے ملزم کے خلاف زیردفعہ 376ت پ اور509،501اور506کے تحت مقدمہ درج کیاجارہاہے ،ملزم پولیس کی حراست میں ہے جس کوکل ریمانڈکیلئے عدالت میں پیش کیاجائیگاجبکہ ملزم کے قبضے سے طالبہ کی فحش ویڈیوکے دوموبائل فون اورمیموری کارڈقبضہ میں لیکرتحقیقات شروع کردی ہیں ،پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان کاایک گروہ ہے جودیگرطالبات کوبھی اسی طرح جھانسہ دیکرورغلاتاہے

نور الدین زنگی


مسلمانوں نے حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے زمانے میں عیسائیوں سے مسجد الاقصا بغیر کسی جنگ کے حاصل کی اور اسکے بعد مسجد مسلمانوں کی بھرپور طاقت کے زیر اثر رہی۔ سلجوق ایمپائر کے زمانے میں فرانس، اٹلی، جرمنی اور دیگر یورپین ریاستوں کی متحدہ افواج نے مسلمانوں کی ریاست پر حملہ کیا۔ ابتدا میں متحدہ جارح کو شکست کی منہ دیکھنا پڑا۔ مگر بعد میں جب سلجوق اپنی طاقت قائم نہ رکھ سکے تو بزدل عیسائی جارح یورپین ریاستوں نے متحد ہوکر دوبارہ حملہ کیا۔ اس وقت تک مسلمان عملاً کئی چھوٹی ریاستوں میں بٹے ہوئے تھے اور کچھ اپس میں ہی دستِ گریبان تھیں ۔ سلجوق بھی اپنی بھرپور طاقت کھو چکے تھے لہذا عیسائی جارح نے 492 ھ میں یروشلم فتح کرلیا۔ جب کم ظرف عیسائی مسجد القصا پر فتح کا جھنڈا لہرانے ائے تو انھوں نے بے تحاشا مسلمان مرد،عورتوں اور حتٰی کہ بچوں کو بھی بے دریغ قتل کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ستر ھزار معصوم لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

مسلمان حالت غم میں تھے مگر پھر بھی اپس میں لڑرہے تھے اور اتنے کمزور تھے کہ وہ عیسائی طاقت کا سامنا کرنے کی ہمت نہ پاسکے۔ اس وقت ایک بہادر مسلمان حکمران سامنے ایا۔ اس کا نام عماد الدین زنگی تھا۔ وہ سلجوقی دور میں موصل کا حکمران تھا۔ جب سلجوق کمزور ہوئے تو وہ طاقت پاگیا کیونکہ اس نے دوسری مسلمان طاقتوں سےنہ لڑنے کہ پالیسی اپنائی۔ عماد الدین زنگی عیسائیوں سے لڑنے کے لیے اکیلا سامنے ایا۔ اُس نے عیسائیوں کے کئی قلعے فتح کرلیے۔ اس نے مسجد الاقصا کو عیسائیوں کے ناپاک قبضے سے نجات دلانے کا عزم کررکھا تھا لہذا وہ عیسائیوں کو پے درپے شکست دیتا ہوا یروشلم کی طرف بڑھتا رہا۔ مگر اس کی قسمت میں فاتح بیت المقدس بننانہیں لکھا تھا۔وہ بیمار ہوگیا اور بالاخر انتقال فرماگیا۔ اناللہ و اناالیہ راجعون۔ اس نے 521ھ سے 541 ھ تک حکمرانی کی۔

عماد الدین کے بعد اسکا بیٹا نور الدین زنگی کے سر پر تاج ِحکمرانی سجایا گیا۔ نورالدین نے عیسائیوں سے جہاد جاری رکھا اور 541-568 ھ تک ان سے جنگ کرتا رہا مگر جب نور الدین نے دیکھا کہ عیسائی بٹی ہوئی مسلمان ریاستوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں لہذا مسلمان ریاستیں نور الدین کی عیسائیوں کے خلاف کوئی مدد نہیں کررہی ہیں تو اس نے مسلمان ریاستوں کو متحد کرنے کی ٹھانی۔ مسلمان حکمرانوں کے سر پر حسب روایت کوئی جوں نہ رینگی۔ لہذا نور الدین نے اپنا طریقہ کار میں تبدیلی کی اور بے حس مسلم حکمرانوں کے خلاف جنگ کا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں مسلم ریاستوں کے متحد ہونے کا کام انجام پاسکا۔

مصر ان دنوں فاطمی حکمران کے زیر اثر تھا جو کہ بے حد کمزور حکمران تھے۔ مصر کی فلسطین کے ساتھ سرحد مشترکہ تھی۔ عیسائیوں نے مصر پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بھی بنالیا۔ مگر نورالدین نے عیسائیوں کا خواب پورا نہ ہونے دیا۔ اس نے عیسائیوں کےمصر پر قبضہ سے پہلے ہی مصر پر اپنی حکومت قائم کرلی۔ اس کے بعد کسی دوسرے مسلم حکمران کو جرات نہ ہوئ کہ نور الدین سے لڑ سکے۔ اسکے بعد نور الدین نے فلسطین پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایامگر قضا نے اسے مہلت نہ تھی اور وہ 48 سال کی عمر میں انتقال فرماگیا۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔

بہادر باپ اور بیٹا دونوں سچے مسلمان تھے اور اللہ پر ہی یقین رکھتے تھے۔ دونوں اتنے بہادر تھے کہ دشمن سے لڑتے ہوئے اپنی جانوں کی بھی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ نور الدین بہت بہادری سے دادِشجاعت دے رہا تھا اسکے ایک کمان دار نے اس سے کہا " اگر اپ کو کچھ ہوگیا تو عیسائیوں کا حوصلہ بڑھ جائے گا اور وہ مسلمانوں کا تباہ کردیں گے" نور الدین نے اسکے جواب میں کہا " پہلے تولو پھر بولو! اپ اللہ کی قدر و قدرت کے خلاف بول رہے ہیں۔ بتائیے مجھ سے پہلے کس نے اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کی؟"

نور الدین ایک ذہین فرماروا تھا۔ اسنے لاتعداد مدرسہ، ھسپتال، اور کئی اقسام کی عمارات لوگوں کی خدمت کے لیے تعمیر کیں۔ وہ ایک منصف مزاج حکمران تھا۔ اس نے اسلامی بیت المال قائم کیا اور خزانے سے اپنے لیے ایک ٹیڈی پائی بھی نہیں لی۔ زیادہ تر وہ جنگی معرکوں میں مصروف رہا اور اس نے مال غنیمت سے اتنا ہی وصول کیا جتنا دوسرے سپاہیوں کے لیے مخصوص تھا۔ تمام بیت المال کے اساسے فلاحی کاموں کے لیے مخصوص تھے۔ اس کے دور حکمرانی میں مہمانوں کو سرائے میں اور مریضوں کو ھسپتالوں میں مفت سہولتیں دی جاتی تھیں۔ نور الدین زنگی کا اندازِحکمرانی ہمیں ‘عمربن عبدلعزیز’ کی یاد دلاتا ہے۔ نور الدین نے عوام پر کوئی ناجائز تیکس نہیں لگایا۔ وہ اتنا منصف تھا کہ ایک دفعہ ایک ادمی نے نورالدین کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔ جب نور الدین نے سنا اس وقت وہ پولو کھیل رہا تھا جو کہ اس کا پسندیدہ کھیل تھا۔ نورالدین اسی وقت میدان ِکھیل سے باھر ایا اور عدالت کی طرف دوڑ لگادی اور عدالت میں اپنی صفائی پیش کی۔

ایک دفعہ اس کی بیوی نے کچھ مزید رقم کا تقاضا کیا اور کہا کہ جو وظیفہ اسکو ملتا ہے وہ گزارے کے لیے کافی نہیں۔ نورالدین نے جواب دیا " میں کہاں سے رقم حاصل کروں۔ بیت المال مسلمان عوام کے لیےہے اور میں صرف اسکا رکھوالا ہوں" اس کی حکمرانی دراصل شریعت کی حکمرانی تھی۔ شراب نوشی اور کاروبار اس دور میں ممنوع تھے۔ وہ اپنی ذاتی زندگی میں بھی شریعت کا پابند تھا۔ اللہ نور الدین زنگی پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ امین۔
ربط

یہ ہے اللہ کی تلواروں میں سے ایک ۔حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ


ان کا معاملہ بھی عجیب ہے! اُحد کے روز مسلمانوں کو گھائو لگایا اور باقی زندگی اَعدائے اسلام کو ناکوں چنے چبوائے۔
آئیے ان کی داستانِ حیات ابتدا سے سنیں!
مگر کون سی ابتدا؟… وہ تو خود اس روز کے علاوہ کسی روز کو اپنی زندگی کا آغاز نہیں سمجھتے جس روز انھوں نے رسول اللہﷺ سے بیعت کرتے ہوئے آپؐ کے دست مبارک سے مصافحہ کیا تھا۔ اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ اس ساری عمر اور زندگی کو خود سے دور کر دیتے جو اس روز سے قبل مہینوں اور برسوں کی صورت میں گزر چکی تھی۔

ہم بھی ان کی کہانی وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے وہ شروع کرنا پسند کرتے ہیں یعنی وہ حسین لمحہ جس میں ان کا دل اللہ سے ڈر گیا اور ان کی روح نے رب الرحمن کے دائیں ہاتھ کا لمس محسوس کیا۔ (رحمن کے تو دونوں ہاتھ دائیں ہیں) تو وہ روح اُس کے دین، اُس کے رسول اور راہِ حق میں تمنائے شہادت کے شوق سے کھل اٹھی۔ ایسی شہادت جو ایام ماضی کا وہ بوجھ اتار پھینکے جو باطل کی حمایت و نصرت کی صورت میں ان کے کندھوں پر پڑا ہوا تھا۔

ایک روز وہ تنہائی میں بیٹھ گئے اور اپنے سنجیدہ احساسات اور صحیح عقل و شعور کو اس دینِ جدید پر مرکوز کر دیا جس کے پرچم روز بروز بلند بھی ہو رہے تھے اور ان میں اضافہ بھی ہو رہا تھا۔ ان کے دل میں تمنا پیدا ہوئی کہ اللہ عالم الغیب ان کے لیے ہدایت کا کوئی ذریعہ پیدا کر دے۔

یعنی ان کے بیدار دل میں یقین کے احساسات جاگ اٹھیں۔ وہ خود سے ہم کلام ہوئے: ’’اللہ کی قسم راستہ درست ہے اور آدمی رسولﷺ ہے۔ لہٰذا کہاں تک اور کب تک (میں اس سے دور رہوں گا)؟ اللہ کی قسم! میں جاتا ہوں اور اسلام قبول کر لیتا ہوں!‘‘ قارئین کرام! ہم انھی کے الفاظ کی طرف کان لگاتے ہیں۔ وہ رسول اللہﷺ کے پاس جانے اور قافلۂ مومنین میں اپنا نام درج کرانے کے لیے مکہ سے مدینہ کی طرف اپنے سفرِمبارک کی روداد بیان کرتے ہیں:

’’میں نے چاہا کہ کوئی ایسا آدمی ملے جس کو ساتھ لے چلوں! میں عثمانؓ بن طلحہ کو ملا اور اس سے اپنے ارادے کا ذکر کیا تو اس نے فوراً بات مان لی۔ ہم دونوں بوقتِ سحر نکل پڑے۔ جب ہم سہل کے مقام پر پہنچے تو وہاں ہمیں عمروؓبن العاص ملے۔ انھوں نے کہا: آنے والوں کو خوش آمدید۔

ہم نے کہا: ’’آپ کو بھی خوش آمدید۔‘‘

انھوں نے پوچھا: ’’کہاں کا ارادہ ہے؟‘‘

ہم نے انھیں بتایا تو انھوں نے بھی ہمیں بتا دیا کہ وہ بھی نبیﷺ کی طرف جا رہے ہیں تاکہ اسلام قبول کریں۔
پھر وہ بھی ہمارے ساتھ ہو لیے۔ یہاں تک کہ ہم ۸؍ہجری یکم صفر کو مدینہ پہنچ گئے۔ میں جب رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپﷺ کو نبی کہہ کر سلام کیا۔ آپﷺ نے بھی خندہ روئی سے سلام کا جواب دیا۔ پھر میں نے کلمۂ شہادت پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’میں تمھارے اندر ایسی عقل دیکھ رہا ہوں کہ وہ تمھیں خیر کے سوا کسی اور چیز کے حوالے نہیں کرے گی۔‘‘
میں نے رسول اللہﷺ سے بیعت کی اور عرض کیا: راہِ حق میں رکاوٹ ڈالنے کی خاطر مجھ سے سرزد ہونے والے ہر عمل کی میرے لیے استغفار کیجیے!
آپؐ نے فرمایا: ان الاسلام یجب ما کان قبلۃ (اسلام ان تمام (گناہوں) کو مٹا دیتا ہے جو اس سے پہلے سرزد ہوئے ہوں)۔

میں نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ پھر بھی آپﷺ میرے لیے مغفرت کی دعا کیجیے۔
پھر آپ یوں گویا ہوئے:

اللھم غفر لخالد ابن الولید کل ما اوضع فیہ من صد عن سبیلک ’’اے اللہ! خالد بن ولیدؓ کے ان تمام گناہوں کو معاف فرما دے جو اس نے تیری راہ روکنے کے لیے کیے ہیں۔‘‘
اس کے بعد عمروؓ بن العاص اور عثمانؓ بن طلحہ بھی مسلمان ہو گئے اور رسول اللہﷺ کی بیعت کر لی۔‘‘

آئیے ان ’’حضرت خالدؓ‘ کی معیت میں چند لمحات گزاریں جو اپنی قوت بازو کے بل بوتے پر اسلام لائے تھے۔

جنابِ خالدؓ جب مسلمان ہو جاتے ہیں تو ان کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہو جاتا ہے۔ قارئین کرام! آپ معرکہ مؤتہ کے مردِمیدان تین شہدا جناب زید بن حارثہؓ، جناب جعفرؓ بن ابی طالب اور جناب عبداللہؓ بن رواحہؓ ہیں۔مؤتہ وہ غزوہ ہے جس کے لیے روم نے دو لاکھ فوج جمع کی تھی اور جس کے مقابلے میں مسلمانوں نے بے مثال دادِشجاعت دی تھی۔

آپ کو وہ غم انگیز الفاظ بھی یاد ہوں گے جو رسول اللہﷺ نے تینوں قائدینِ معرکہ کے شہادت کی خبر دیتے ہوئے فرمائے تھے کہ: اخذ الرایۃ ’’زید بن حارثۃ‘‘ فقاتل بھا حتیٰ قتل شھیدا…’’ثم اخذھا ’’جعفر‘‘ فقاتل بھا، حتیٰ قتل شھیدا… ثم اخذھا ’’عبداللہ بن رواحۃ‘‘ فقاتل بھا، حتیٰ قتل شھیدا ’’زید بن حارثہ نے پرچم پکڑا اور وہ لڑتے رہے حتیٰ کہ وہ قتل ہو کر شہید ہوگئے۔ پھر پرچم جعفرؓ نے پکڑا اور وہ بھی لڑتے رہے حتیٰ کہ قتل ہو کر شہید ہو گئے۔ پھر پرچم عبداللہ بن رواحہؓ نے تھاما اور لڑتے رہے حتیٰ کہ قتل ہو کر شہادت پاگئے۔‘‘

اس حدیثِ رسولﷺ کا کچھ حصہ باقی ہے ۔آپ نے مزید فرمایا:
ثم اخذ الرایۃ سیف من سیوف اللہ ففتح اللہ علیٰ یدیہ ’’پھر پرچم اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے تھاما اور اللہ نے اس کے ہاتھوں فتح عطا فرما دی۔‘‘

یہ سیف من سیوف اللہ کون تھا؟
یہ حضرت خالدؓ بن ولیدؓ تھے جو ایک عام سپاہی کی حیثیت سے تین کمانڈروں حضرت زیدؓ، حضرت جعفرؓ اور حضرت عبداللہؓ کی قیادت میں غزدۂ مؤتہ میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ یہ تینوں کمانڈر اسی ترتیب سے اس خوفناک جنگ میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔

آخری کمانڈر کے شہید ہو کر زمین پر گرنے کے بعد حضرت ثابت بن اقرمؓ جلدی سے جھنڈے کی طرف بڑھے اور اسے داہنے ہاتھ میں تھام کر لشکرِاسلام کے وسط میں بلند کردیا تاکہ مسلمانوں کی صفوں میں کوئی بد دلی نہ پیدا ہونے پائے۔

حضرت ثابتؓ نے جھنڈے کو تھامتے ہی یہ کہتے ہوئے فوراً اسے حضرت خالد بن ولیدؓ کی طرف بڑھا دیا کہ: ’’اے ابو سلیمان! پرچم پکڑ لیجیے!‘‘
حضرت خالدؓ جھنڈے کو اٹھانا اپنا حق نہیں سمجھتے تھے کیونکہ آپ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ آپ اس وقت مسلمانوں کی قیادت کریں جب وہ انصار و مہاجرین ان کے درمیان ابھی موجود ہوں جنھوں نے اسلام لانے میں سبقت حاصل کی تھی۔

ادب، انکسار، علم اور اخلاقی خوبیاں! یہ انھی کے لائق تھیں اور وہ ان کے اہل تھے۔ اس وقت انھوں نے حضرت ثابت بن اقرمؓ کو جواب دیتے ہوئے فرمایا:
’’نہیں… میں پرچم نہیں تھام سکتا۔ آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ آپ عمر میں بھی بڑے ہیں اور غزوۂ بدر میں بھی شریک ہو چکے ہیں۔‘‘

حضرت ثابتؓ نے اِن کو جواب دیا: اسے آپ پکڑیں، آپ مجھ سے زیادہ جنگ کے ماہر ہیں اور اللہ کی قسم! میں نے یہ آپ کو پکڑانے کے لیے پکڑا تھا۔

پھر حضرت ثابتؓ نے مسلمانوں میں بآواز بلند کہا: ’’کیا تمھیں خالدؓ کی امارت منظور ہے؟

لوگوں نے کہا: ہاں منظور ہے!

جناب خالدؓ اس وقت لشکر کی کمان سنبھالتے ہیں جب لڑائی اپنے انجام کے قریب پہنچ رہی ہے اور مسلمانوں کی شہادتیں بہت ہو چکی ہیں، ان کے بازو کٹ چکے ہیں، لشکر روم اپنی بے حساب کثرت کے بل بوتے پر تباہی بھی پھیلا رہا ہے اور مسلسل کامیابی بھی حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اب کوئی جنگی چال یا دائو پیچ ایسا نہیں تھا جو معرکہ کے انجام کی سمت کو تبدیل کر سکے اور مغلوب کو غالب اور غالب کو مغلوب کر دے۔

جو واحد عمل کسی عبقری کا انتظار کر رہا تھا کہ وہ مجھے آزمائے وہ یہ تھا کہ لشکرِ اسلام میں جانی نقصان کو مزید بڑھنے سے روکا جائے اور بقیہ قوت کو بچا کر یہاں سے نکالا جائے۔ یعنی محتاط پسپائی اختیار کی جائے جو بقیہ قوت کو ارضِ معرکہ میں تباہ ہو جانے سے بچا سکے۔ لیکن ان حالات میں اس طرح کی پسپائی کسی بھی جگہ ناممکن ہوتی ہے۔ مگر جب یہ بات صحیح ہے کہ یہ کام کسی بہادر دل کے لیے ذرا مشکل و ناممکن نہیں تو ہم کہیں گے کہ حضرت خالدؓ سے بڑا بہادر دل کون ہو سکتا ہے۔

سیف اللہ آگے بڑھتے ہیں۔ پورے میدانِ جنگ پر عقاب جیسی نگاہ ڈالتے ہیں اور روشنی جیسی تیزی سے فوراً منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ جنگ جاری ہے اور اسی دوران لشکر کو کئی ٹولیوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ پھر ہر ٹولی کو اس کی مہم اور ذمہ داری سونپتے ہیں اور مشکل میں ڈال دینے والے اپنے فن اور گہری چالاکی کو استعمال میں لاتے ہیں۔ یہاں تک کہ لشکرِروم کی صفوں میں بہت بڑا شگاف ڈال دیتے ہیں جس کے درمیان سے مسلمان لشکر بسلامت گزر جاتا ہے۔

حضرت خالدؓ اسلام لائے تو اس دین کے لیے اپنی عظیم خدمات رسول اللہﷺ کی خدمت اَقدس میں پیش کر دیتے ہیں جس دین پر وہ پورے یقین کے ساتھ ایمان لائے تھے اور پوری ندگی اس کی نذر کر دی۔ رسول اللہﷺ کے رفیق اعلیٰ سے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ خلافت کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں تو اِرتداد کی غدّارانہ و مکارانہ آندھیاں چل پڑتی ہیں۔

ان طوفانوں نے کانوں کو بہرا کر ڈالنے والی خوفناک چنگھاڑ اور مسلسل تحریک کے ذریعے دین اسلام کا گھیرائو کرنے کی ٹھانی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ اس اولین بغاوت کی سرکوبی کے لیے مردِعصر و مردِ دہر حضرت خالد بن ولیدؓ پر نظر ڈالتے ہیں! یہ بات صحیح ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے اِرتداد کے خلاف معرکے کا آغاز اس لشکرِاسلام کے ذریعے کیا تھا جس کی قیادت خود فرمائی تھی لیکن یہ بات بھی غلط نہیں ہے کہ انھوں نے فیصلہ کن دن کے لیے حضرت خالدبن ولیدؓ کو سنبھال رکھا تھا اور پھر حضرت خالد بن ولیدؓ ہی اِرتداد کے خلاف ان تمام معرکوں میں بے مثل و عظیم مردِمیدان رہے۔

جب مرتدین کے لشکروں نے اپنی بڑی بڑی سازشوں کو عملی رنگ دینے کی تیاری شروع کر دی تو خلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیقؓ نے بھی عزم صمیم کرلیا کہ آپؓ خود لشکر اسلام کی قیادت کریں گے۔ بڑے بڑے صحابہ جو کسی قدر مایوسی میں آگئے تھے وہ خلیفہ کو اس عزم سے روک رہے تھے، لیکن خلیفہ کا عزم بتدریج پختہ ہوتا گیا۔

شاید اس طرح وہ اس مسئلہ کو جس میں کودنے کے لیے لوگوں کو دعوت دے رہے تھے، ایسی اہمیت دینا چاہتے تھے جو اس خوفناک معرکے میں بنفس نفیس شرکت کے بغیر نہیں دی جا سکتی تھی جو معرکہ ابھی ایمان و اسلام اور ارتداد و ضلال کی قوتوں کے مابین برپا ہونے والا تھا۔

باوجود اس کے کہ یہ تمرد عارضی تھا تاہم مرتدین کی یہ حرکات بہت بڑا خطرہ تھیں۔ اس مہم میں اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات رکھنے اور پس و پیش کرنے والے عناصر کو اپنے بغضِ قلب کی آتش کو ٹھنڈا کرنے کا سنہری موقع ہاتھ آیا تھا۔ اس فتنے کی آگ اسد، غطفان، عبس، طیئ، ذیبان، بنی عامر، ہوازن، سلَیم اور بنی تمیم کے قبائل کے اندر بھی بھڑک اٹھی تھی۔

یہ سازشیں سر اٹھاتے ہی ہزاروں جنگجوئوں کے لشکر جرار میں تبدیل ہو گئیں۔ اس خوفناک بغاوت کو بحرین، عمان اور مہرہ کے لوگوں نے بھی قبول کر لیا تھا اور اسلام کو خطرناک صورت حال سے دوچار کر دیا تھا۔ گویا زمین نے مسلمانوں کے چہار اطراف آگ بھڑکا دی تھی۔ لیکن ادھر دوسری طرف حضرت ابوبکرؓ تھے!! حضرت ابوبکرؓ نے مسلمانوں کو جنگ کے لیے تیار کیا اور خود ان کی قیادت فرما کر اس مقام پر جا پہنچے جہاں بنی عبس، بنی مرہ اور ذبیاں ایک لشکر جرار کی صورت نکل آئے تھے۔ لڑائی چھڑ گئی اور شدت پکڑتی گئی… بالآخر عظیم فتح مسلمانوں کے حصے میں آئی۔

کامیاب و فاتح لشکر ابھی مدینہ میں قدم ہی رکھ پایا تھا کہ خلیفہ نے اسے ایک اور معرکہ کے لیے آواز دے دی۔ چونکہ مرتدین کی خبریں اور ان کی جتھا بندی ہر لمحہ خطرناک صورت اختیار کرتی جا رہی تھی۔ اس لیے اس دوسرے لشکر کی قیادت کے لیے بھی حضرت ابوبکرؓ خود نکلے مگر کبارصحابہؓ کا پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا اور وہ سب اس بات پر متفق و جمع ہوگئے کہ خلیفہ کو مدینہ میں ہی رہنا چاہیے۔ حضرت علیؓ حضرت ابوبکرؓ کے راستے میں جا کھڑے ہوتے ہیں اور ان کی اس سواری کی لگام پکڑ لیتے ہیں جس پر سوار ہو کر حضرت ابوبکرؓ لشکر کی قیادت کرنے جا رہے تھے۔

حضرت علی کہتے ہیں: ’’خلیفۂ رسولﷺ! کہاں جا رہے ہیں؟

میں آپ سے وہی بات کہوں گا جو رسول اللہﷺ نے اُحد کے روز فرمائی تھی کہ

لم سیفک یا ابا بکر ولا تفتجعنا بنفسک ’’ابوبکر! ذرا اپنی تلوار کو بند رکھو اور اپنے بارے میں ہمیں صدمہ نہ پہنچائو!‘‘ مسلمانوں کے اس مصمم اجتماعی موقف کے پیشِ نظر خلیفۂ وقت مدینہ میں رہنے پر راضی ہو گئے اور فوج کو گیارہ گروپوں میں تقسیم کرکے ہر گروپ کے لیے اس کا کام تعین کردیا۔ فوج کے ان یونٹوں میں سے سب سے بڑے یونٹ کے امیر حضرت خالد بن ولیدؓ تھے۔

خلیفہ نے جب کمانڈروں کو جھنڈے تفویض کیے تو حضرت خالدؓ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: میں نے رسول اللہؐ کو یہ فرماتے سنا کہ نعم عبداللہ و اخو العشیرۃ خالد بن ولید سیف من سیوف اللہ، سلہ اللہ علی الکفار و المنافقین ’’اللہ کا بہترین بندہ اور خاندان کا وفادار خالد بن ولید اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے، اللہ اسے کفار و منافقین پر تان رکھے۔‘‘

حضرت خالدؓ اپنے لشکر کو ایک سے دوسرے معرکے میں منتقل کرتے ہوئے اپنی راہ پر گامزن ہیں اور فتح پر فتح پا رہے ہیں یہاں تک کہ فیصلہ کن معرکے کا روز آگیا۔ یہ یمامہ کا مقام ہے جہاں بنوحنیفہ اور ان کے ساتھ آ ملنے والے قبائل مرتدین کے لشکروں کو اکٹھا کر لائے ہیں جن کی قیادت (نبوت کا دعوے دار) مُسَیلمہ کذّاب کر رہا ہے۔
اس موقع پر کچھ مسلمان قوتوں نے بھی لشکرِ مُسَیلمہ کا ساتھ دینے کا تجربہ کیا مگر انھیں کچھ حاصل نہ ہوسکا۔

ادھر خلیفہ کا حکم فاتح سالار تک پہنچا کہ بنو حنیفہ کی طرف پیش قدمی کرو۔ حضرت خالدؓ لشکر کو لے کر چل پڑے۔ جب مسیلمہ کو علم ہوا کہ اس کی راہ میں آنے والے لشکر کی قیادت حضرت خالد بن ولیدؓ کر رہے ہیں تو اس نے اسے حقیقی اور خوفناک تصادم سمجھا۔ پھر اپنے لشکر کو ازسرنو ترتیب دینا شروع کردیا۔

حضرت خالدؓ نے لشکر کو یمامہ کی بلند جگہ پر اتار دیا اور لشکر کے کمانڈروں کو پرچم عنایت کیے اور دونوں لشکر ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے۔ خوفناک جنگ شروع ہو گئی۔ پھر اس میں شدت آتی گئی۔ مسلمان شہید ہو کر ایسے گر رہے تھے جیسے تند و تیز ہوا باغ کے پھولوں کو گراتی ہے!! جناب خالدؓ نے دشمن کا پلّہ بھاری ہوتا دیکھا تو فوراً گھوڑے پر سوار ہو کر قریب ہی اونچی جگہ سے وسیع و عمیق میدان جنگ پر نظر ڈالی اور اپنے لشکر کے کمزور پہلوئوں کا جائزہ لیا۔

آپؓ نے دیکھا کہ مسلمانوں میں ذمہ داری کا احساس اس تابڑتوڑ پیش قدمی کی بنا پر کمزور ہو گیا ہے جو مسیلمہ کی فوج نے ان پر کی ہے۔ لہٰذا آپؓ نے سوچا کہ تمام مسلمانوں کے دلوں میں ذمہ داری کے احساس کو پوری طرح اجاگر اور مضبوط کر دیا جائے۔

اس مقصد کے لیے آپؓ لشکر کے یونٹوں اور ٹولیوں کو بلا رہے تھے، میدان جنگ میں ہی اس کی تنظیمِ نوکر رہے تھے پھر اپنی فاتحانہ آواز میں کہا: الگ الگ ہو جائو۔ تاکہ ہم آج ہر قبیلے کی شجاعت کو دیکھ سکیں! سب قبیلے الگ الگ ہو گئے۔ مہاجر ایک جھنڈے تلے آگئے اور انصار دوسرے جھنڈے کے نیچے چلے گئے۔ اور ایک باپ کی اولاد ایک جھنڈے تلے جمع ہو گئی اور دوسرے کی دوسرے جھنڈے تلے چلی گئی۔ اس طرح واضح ہوگیا کہ شکست کس جگہ سے در آ رہی تھی۔ پھر دل بہادری کی آتش سے جل اٹھے اور عزم و جذبے سے سرشار ہو گئے۔

حضرت خالد ؓلمحہ بہ لمحہ تکبیر و تہلیل کا نعرہ بلند کرتے یا گرجدار آواز میں کوئی حکم دیتے تو لشکر کی تلواریں ایسی موت ثابت ہوتیں جنھیں کوئی موڑ نہیں سکتا اور اپنے ہدف تک پہنچنے سے روک نہیں سکتا۔ چند ہی ثانیوں میں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور مسیلمہ کا لشکر دس دس کرکے پھر سیکڑوں اور پھر ہزاروں کی تعداد میں تلواروں کی نذر ہونے لگا۔ اس طرح ارتداد کا انتہائی خطرناک اور شدید معرکہ انجام کو پہنچا۔ مسیلمہ قتل ہوگیا، میدان جنگ اس کے لشکر کی نعشوں سے بھر گیا اور کذّاب مدّعیِ نبوت کا جھنڈا مٹی تلے دب گیا۔

خلیفہؓ نے مدینہ میں اللہ ربُّ العِزّت کے لیے نماز شکر ادا کی کہ اس نے مسلمانوں کو اس فتح سے نوازا اور انھی

Saturday, July 16, 2016

افغانستان، بند تیمورکے قریب نیٹو کی بمباری، چاغی اور نوشکی سے تعلق رکھنے والے 30 افراد ہلاک


افغانستان، بند تیمورکے قریب نیٹو کی بمباری، چاغی اور نوشکی سے تعلق رکھنے والے 30 افراد ہلاک


چاغی ( روزنامہ آزادی ): چاغی سے متصل پاک افغان سرحد کے قریب نیٹو کی بمباری سے چاغی اور نوشکی سے تعلق رکھنے والے 30سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ بمباری میں متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہوگئی ہیں ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق چاغی، نوشکی اور گردی جنگل کے علاقوں سے بتایا جاتا ہے گزشتہ شب نیٹو کے بمبار طیاروں نے پاک افغان سرحد کے قریب افغانستان کے علاقے بند تیمور کے قریب شدید بمباری کی جس میں بلوچستان کے علاقے چاغی اور نوشکی کے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ بمباری سے متعدد گاڑیوں کے تباہ ہونے کی بھی اطلاعات ملی ہیں ہلاک افراد میں سے 5کا تعلق چاغی، چار کا تعلق نوشکی جبکہ پچیس افراد کا تعلق گردی جنگل سے بتایا جاتا ہے بمباری کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں جھلس گئی ہیں جس کے باعث ان کی شناخت نہیں ہوپارہی ان میں سے ایک شخص مزار خان کو چاغی میں دفنا دیا گیا ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد منشیات کے کاروبار میں ملوث تھے جن میں پیر محمد، محمد عیسیٰ، مزار خان، قادر، کمال، بخت محمد، حسن، لالو، عبدالاحد، بختیار، دلدار اور دیگر افراد کی شناخت ہوگئی ہے بمباری سے کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں تاہم واقعہ کی سرکاری حکام کی جانب سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

سافٹ ڈرنکس کا بے دریغ استعمال کینسرکی وجہ بن سکتا ہے، ماہرین

بے تحاشہ سافٹ ڈرنکس اور سوڈا پینے سے پتے کے سرطان کا خطرہ دوگنا ہوجاتا ہے، ماہرین۔ فوٹو: فائل
سوئزرلینڈ: ماہرین نے سافٹ ڈرنکس، سوڈا اور دیگر میٹھے مشروبات کے استعمال سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پیچیدہ کینسر لاحق ہوسکتا ہے۔
جرنل آف نیشنل کینسرانسٹی ٹیوٹ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق سوڈا اورسافٹ ڈرنکس سے صفرا کی نالیوں ( بائل ڈکٹ) اور پتے کا کینسر ہوسکتا ہے۔ تحقیق کے لیے ماہرین نے 70 ہزار سے زائد افراد کی مشروبات پینے کی عادت کو مسلسل 13 برس تک نوٹ کیا، اس دوران 150 افراد کو بائل ڈکٹ اور پتے کا کینسرہوگیا جس کے بعد معلوم ہوا کہ جن افراد نے روزانہ تین سے چار مرتبہ سافٹ ڈرنکس پی یا میٹھے مشروبات ( پھلوں کے رس کوہٹا کر) استعمال کئے ان کی اکثریت کو یہ کینسر ہوا اورعموماً لوگ اس قسم کے سرطان کے شکار نہیں ہوتے۔
ماہرین کے مطابق زیادہ سافٹ ڈرنکس پینے والے افراد میں ایسے کینسر کا خطرہ دوگنا ہوجاتا ہے اوردنیا میں یہ اپنی نوعیت کا واحد مطالعہ ہے جس میں سافٹ ڈرنکس سے پتے کے سرطان کا تعلق واضح کیا گیا ہے تاہم بعض ناقدین نے کہا ہے کہ اس میں تمباکو نوشی ، شراب نوشی اور دیگر عوامل کا جائزہ نہیں لیا گیا جو کینسر کی ممکنہ وجہ بھی بن سکتے ہیں۔

برطانوی ماہر نے 40 سال تک روشن رہنے والی سفید ایل ای ڈی تیار کرلی

ایل ای ڈیز کو اگر روزانہ 10 گھنٹے تک جلایا جائے تو یہ تقریباّ 40 سال تک پوری روشنی دیتی رہیں گی۔ فوٹو؛ فائل
لندن: برطانوی موجد نے ایسی ماحول دوست اور کفایت شعار سفید ایل ای ڈی تیار کی ہے جو 40 سال تک پوری روشنی دے سکتی ہے۔
جیک ڈائیسن نے اپنی وضع کردہ یہ ایل ای ڈی استعمال کرتے ہوئے مختلف الاقسام لیمپ تیار کرلیے ہیں جو وہ اپنی ہی کمپنی سے فروخت کررہے ہیں۔ انہوں نے اپنی کمپنی کے تیار کردہ ہر لیمپ میں ایل ای ڈیز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ایک خصوصی نظام کا اضافہ کیا ہے جس کی بدولت یہ ایک لمبے عرصے تک پوری روشنی دے سکتی ہیں۔
اگرچہ یہ لیمپ کم خرچ تو قرار نہیں دیئے جاسکتے کیونکہ ان کی کم سے کم قیمت بھی تقریباً 65,000 پاکستانی روپوں کے مساوی ہے، لیکن 40 سال تک پوری روشنی دینے کے قابل ہونا ان کی ایک اہم خوبی ہے۔ جیک ڈائیسن لائٹنگ کی ویب سائٹ کے مطابق، یہ ایل ای ڈیز 144,000 گھنٹے تک روشن رہنے کے قابل ہیں۔ یعنی اگر انہیں روزانہ 10 گھنٹے تک جلایا جائے تو یہ تقریباّ 40 سال تک پوری روشنی دیتی رہیں گی۔ ڈائیسن کے مطابق، 40 سال پورے ہونے کے بعد بھی ان سفید ایل ای ڈیز کی روشنی میں 30 فیصد تک کمی واقع ہوگی۔
عام ایل ای ڈیز اوسطاً 50,000 گھنٹے تک روشن رہ سکتی ہیں۔ یعنی اگر انہیں روزانہ 10 گھنٹے جلایا جائے تو وہ تقریباً 17 سال تک کارآمد رہیں گی۔ جیک ڈائیسن لائٹنگ کے ایل ای ڈی لیمپ ان کے مقابلے میں ڈھائی گنا زیادہ عرصے تک روشن رہ سکیں گے۔