The Daily Mail Urdu

Saturday, July 16, 2016

باغیوں کی تھوڑی بہت چھترول تو بنتی ہے 😂😂

باغیوں کی تھوڑی بہت چھترول تو بنتی ہے 😂😂
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج صبح طلوح سحر کے بعد ۔۔۔۔
مغرب اور اسلام دشمن عالمی طاقتوں کے چہتوں کی  ترک عوام کے ہاتھوں شاندار درگت ۔۔۔۔۔
ایک بات تو طے ہو گئی کہ اب ترکی میں کوئی  فوجی ، سول حکومت پر کبھی  شب خون نہیں مارے گا ۔۔۔
ان شاء اللہ

ایک کوسٹ گارڈ کا بیٹا رجب طیب اردوغان کیسے بنا پڑھیں

اردگان کیسے تیار ہوتے ہیں ؟ انھیں کون سی مائیں جنم دیتی ہیں؟
یہ ننھا بچہ ایک کوسٹ گارڈ کا بیٹا تھا، استنبول تعلیم حاصل کرنے پہنچا تھا، شہر کی سڑکوں پر غبارے بیچتا تھا
ٹیلنٹ کی تلاش میں سرگرداں رہنے اور دعوت کے فروغ کے نئے راستے ڈھونڈنے والے تحریکیوں کی نظر پڑی تو انھوں نے اس ہیرے کو اپنے اندر سمیٹ لیا، اسے پڑھایا، اپنی طلبہ تنظیم کا لیڈر بنایا، اپنے یوتھ ہاسٹل میں رکھا، بڑا ہوا تو استاد اربکان نے استنبول کے مئیر کا الیکشن لڑا دیا
فوکسڈ اور جرات مند اردگان نے صرف دو وعدے کیے اور اگلے الیکشن سے پہلے پورے کر دیے۔ اب کیا تھا؟ اگلا انتخاب 26 شہروں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ گیا
اردگان اپنے استاد محترم اپنے قائد اربکان سے چمٹا رہا اور جد و جہد کے ہر میدان میں پہلی صف میں نظر آیا
پھر اسے لگا استاد کا زمانہ گزر گیا، استاد نئے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتا، اس نے استاد کے بجائے اللہ سے وفاداری کا فیصلہ کیا اور احترام سے اجازت چاہی
اب اردگان نے ہر شخص تک پہنچنے کا فیصلہ کیا
ہر شرابی
ہر زانی
ہر سکرٹ پہنی لڑکی تک
ننگے ساحلوں تک اور سینما ہالوں تک
اس نے بس ایک بات کہی
تم کون ہو؟ کیا کرتے ہو؟ مجھے اس سے غرض نہیں
تعلیم چاہیے؟
روزگار چاہیے؟
صحت کی فری سہولتیں چاہییں؟
امن اور ترقی؟
عزت نفس اور دنیا میں وقار؟
بس مجھے ووٹ دو، یہ میرا کرپشن فری اور شاندار خدمت کا ماضی ہے
لوگوں نے ڈرتے ڈرتے اعتماد کیا
اور پھر کرتے چلے گئے
پہلے متعارف ہوئے
پھر مانوس ہوئے
اور پھر ایسے مالوف کہ
اس کی محبت میں ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے
اردگان نے وعدے پورے کیے اور ہر بار اپنا ہی ووٹ لینے کا سابقہ ریکارڈ توڑتا کشتوں کے پشتے لگاتا جھنڈے گاڑتا آگے بڑھتا گیا
اس نے سارے محاذ ایک ساتھ نہیں کھولے، اس نے کہا کون کیا کرتا ہے مجھے غرض نہیں، میں یہ دوں گا میرا وعدہ ہے
پھر طاقت حاصل کر لینے بعد اس نے عدلیہ سے نمٹا
فوج کو کھڈے لائن لگایا اور آج کل میڈیا کھڑا کر رہا ہے۔۔۔
ماڈل سامنے ہے
پیش کر غافل عمل اگر کوئی دفتر میں ہے؟

زبیر منصوری 

وزیر رستان میں برطانیہ کی ناکامی کی کہانی ۔۔۔۔۔۔ تصویروں کی زبانی

انیسویں اور بیسوی صدی برطانیہ کے عروج کی صدیاں تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے وقت کی اس سلطنت کی حدیں اتنی وسیع تھیں کہ اس پر کسی بھی وقت سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ دنیا کی بڑی بڑی سلطنتیں اور فوجی طاقتیں اس کے سامنے ریت کی ریوار کی طرح منہدم ہو گئیں تھی۔

لیکن عین اسی وقت ہندوستان کے شمال مغرب میں واقع ایک چھوٹے سے دور افتادہ خطے وزیرستان کے مسلمانوں نے اپنے وقت کی سب سے بڑی سلطنت اور اس کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ فوج کے مقابلے میں حیران کُن استقامت کا مظاہرہ کیا۔

مٹھی بھر نہتے مجاہدین رائل انڈین آرمی اور ائیر فورس کے لئے لوہے کے چنے ثابت ہوئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ برطانوی فوج اور اس کے جرنیلوں نے آدھی سے زیادہ دنیا فتح کر لی تھی، پہلی اور دوسری جنگِ عظیم میں کارہائے نمایاں سرانجام بھی دیے ہوں گے لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ وزیرستان کے مجاہدین کے مقابلے میں یہ فوج اور جرنیل بلکل ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ 1860 میں برطانوی فوجوں کی وزیرستان آمد سے لے کر 1947 میں برطانیہ کی برصغیر سے روانگی تک وہ ایک دن کے لئے بھی وزیرستان میں ’’رٹ‘‘ قائم کرنے کا دعویٰ بھی نہیں کر سکے۔

رائل انڈین ائیر فورس اور رائل انڈین آرمی نے تقریباً ایک صدی تک وزیرستان میں جو جنگ لڑی گئی اس کی کہانی چند تصویروں کی زبانی پیش خدمت ہے۔ اگرچہ یہ تصویریں برطانویوں کی جانب سے کھینچی گئی ہیں اس کے باوجود یہ برطانیہ کی سفاکی اور مجاہدین کی استقامت کا احوال واضع کر رہی ہیں۔








سو سال سے زاہد عرصے تک رائل انڈین آرمی کے لئے لوہے کا چنا ثابت ہونے والے مجاہدینِِ وزرستان کا پرچم

عطااللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کی باتیں


جو محبت کی آگ لگائی ہے وہ بھجآئن بھی آپ..:

جالندهر کے خیر المدارس میں جلسہ ہوا اور جلسے کے اختتام پر کهانا لگا، دستر خوان پر امیر شریعت مولانا عطا اللہ شاه بخاری رحمہ اللہ بهی تهے انکی نظر ایک نوجوان عیسائی پر پڑی تو اسکو فرمایا
" بهائی کهانا کها لو"
عیسائی نے جواب دیا
"جی میں تو بهنگی ہوں"
شاه جی نے درد بهرے لہجے میں فرمایا
"انسان تو ہو اور بهوک تو لگتی ہے"
یہ کہہ کر اٹهے اور اور اسکے ہاته دهلا کر اپنے ساته بٹها لیا
وہ بیچارہ تهر تهر کانپتا تها اور کہتا جاتا تها
"جی میں تو بهنگی ہوں"
شاہ صاحب نے خود لقمہ بنا کر اسکے منہ میں ڈالا، اسکا حجاب اور خوف کچه دور ہوا تو شاہ صاحب نے ایک آلو اس کے منہ میں ڈال دیا جب اس نے آدها آلو کاٹ لیا تو باقی آدها شاه صاحب نے خود کها لیا، اسی طرح اس نے پانی پیا تو اسکا بچایا ہوا پانی بهی شاه صاحب نے پی لیا
وقت گذر گیا اور وہ عیسائی کهانا کها کر غائب ہو گیا.. اس پر رقت طاری تهی،وہ خوب رویا اور اسکی کیفیت ہی بدل گئی
عصر کے وقت وہ عیسائی اپنی نوجوان بیوی اور بچے کو لے کر آیا اور کہا
" شاہ جی ! جو محبت کی آگ لگائی ہےوہ بجهائیں بهی آپ، اللہ کیلئے ہمیں کلمه پڑها کر مسلمان کر لیں
اورمیاں بیوی دونوں مسلمان ہوگئے
وه ادائے دلبری ہو یا نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ

تاریخ کے کچھ دلچسپ واقعات


جمال الدین ابن واصل کچھ عینی شاہدین سے ایک دلچسپ روایت نقل کرتے ہیں کہ کہ فرانس کے بادشاہ لوئیس نہم کے مصر پر حملہ کے دوران جو کہ ساتویں صلیبی جنگ (1249 م 647 ھ )کے نام سے مشہور ہے۔

اہل منصورۃ میں سے ایک شخص نے ایک تربوز میں سوراخ کیا اور اس میں اپنا سر داخل کر کے پانی میں تیرتا رہا یہاں تک کہ اس کنارے تک پہنچا جہاں فرنگی لشکر ٹھہرا ہوا تھا ، تاکہ کنارے پر کھڑے لوگوں کو دھوکہ دے سکے کہ ایک خوش رنگ تربوز ان کی جانب رواں ہے، اور جونہی ایک لالچی سپاہی اس تربوز کو کھانے اور اس کی مٹھاس سے لطف اندوز ہونے کیلئے پانی کے درمیان پہنچا ، تو پانی میں چھپے اس دلیر جانباز نے اسے اچک کر گرفتار کر لیا اور اور تیرتا ہوا دشمن کے تیروں کی زد سے دور نکل آیا جہاں اسے قید کی حالت میں المنصورۃ معسکر لے آیا جہاں مسلمانوں کا لشکر خیمہ زن تھا۔

                        اصلی گولہ باری


ہسپانویوں نے الجزائر کے ساحلی علاقوں پر قبضہ کر رکھا تھا۔ ہسپانوی توپ خانے کا سالار جب کبھی اذان کی آواز سنتا تو اذان کی جگہ پر توپوں سے گولہ باری کرتا ، اس قلعہ کی فتح کے توپخانے کے اس سالار کو لایا گیا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ اس نے بہت سی مسجدوں اور مؤذنوں کو شہید کیا ہے جب اسے خیرالدین باربروسہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انھوں نے کہا : تم بڑے ماہر توپچی ہو ایک گولے سے اذان کی جگہ کو نشانہ بناتے تھے!" اب دیکھنا حقیقی گولہ باری کس طرح ہوتی ہے !" پھر اسے توپ کے دہانے پر رکھنے کا حکم دیا اور سمندر میں داغ دیا گیا..!

سلطان سلیم الاول کی زندگی کایک دلچسپ واقعہ


عثمانی سلطان سلیم الاول ظاہری زیب وزینت کو زیادہ خاطر میں نہ لاتا اور مملکت کے وزراء اور رؤساء بھی اس کی پیروی کرتے یہاں تک کہ سلطان کا دیوان زیب وزینت اور خوبصورت لباس سے خالی ہوتا چلا گیا اور اس کی جگہ ان کا لباس عام اور ردی قسم کا ہوتا جس کی انھیں سلطان کے لباس کی تقلید میں پہننا پڑتا تھا۔

صدر اعظم نے دیوان میں یورپی مملکت کے سفیر کی آمد سے فائدہ اٹھایا اور سلطان کی خدمت میں عرض کی : 

میرے آقا سلطان ہمارا دشمن ناقص العقل ہے، اس لئے وہ ہر چیز کو سطحیت سے دیکھتا اور ظاہری زیب وزینت کو ضرورت سے زائد اہمیت دیتا ہے اور سلطان معظم اگر مناسب سمجھیں تو…

سلطان بات کاٹ کر بولا:"ٹھیک ہے ایسا ہی کرتے ہیں ، تم بھی اپنے لئے زرق برق نئے لباس زیب تن کرنے کیلئے سوچو "

وزراء اس سلطانی حکم کو پا کر بے حد خوش ہوئے اور اپنے پاس موجود اس موقع کی مناسبت سے قیمتی ترین لباس تلاش کرنے لگے جو سلطان کی قیمتی وخوبصورت قبا کے قریب تر ہوں ۔

سلطان نے سفیر کی آمد سے قبل تخت کے پاس بے نیام تلوار رکھوانے کا حکم دیا ، اس دن وزراء اور معززین مملکت شاہی دربار میں سلطان کے منتظر تھے اور انھیں توقع تھی کہ سلطان عام معمول سے ہٹ کر قیمتی لباس زیب تن کر کے آئیں گے۔

سلطان وہی پرانا لباس زیب تن کئے دربار میں داخل ہوئے وزرء بھونچکے رہ گئے اور اپنے دل میں شرمندگی محسوس کرنے لگے ، کہ ان کے لباس ان کے سلطان کے لباس سے زیادہ خوبصورت اور بیش قیمت تھے ، شرمندگی سے سرجھکا کر بیٹھ گئے اور اس کی وجہ جاننے کا انتظار کرنے لگے۔

سفیر دربار میں داخل ہوا اور سلطان کے سامنے جھک کر لرزتا کانپتا کھڑا ہو گیا ، تھوڑی سی بات چیت کے بعد سفیر تیزی سے باہر نکل گیا، تب سلطان نے اپنے وزراء میں سے ایک سے کہا کہ وہ جا کر سفیر سے سلطان کے لباس کے بارے میں سوال کرے ، سفیر کا جواب انتہائی حیران کن تھا …

"میں نے سلطان معظم کو نہیں دیکھا تخت کی پائنتی کے ساتھ کھڑی بے نیام تلوار نے میری نظر اچک لی اور میں اس کے علاوہ اور کسی جانب دیکھ ہی نہ پایا" 

سلطان کے سامنے جب یہ بات دہرائی گئی تو سلطان نے تخت کے ستھ پڑی بے نیام تلوار کی جانب اشارہ کر کے کہا :

"جب تک ہماری تلوار کی دھار تیز ہے دشمن کی آنکھیں ہمارا لباس نہیں دیکھیں گی اور نہ ہی اس جانب متوجہ ہوں گی ، اللہ ہمیں وہ دن نہ دکھائے جب ہماری تلواریں کند ہوچکی ہوں اور ہم لباس اور ظاہری زیب وزینت میں مشغول ہوں…"